انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں مثبت رجحان برقرار رہا اور روپیہ 0.01 فیصد بڑھ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے بہتر ہو کر 281.42 روپے پر بند ہوا، یوں یہ مسلسل 33واں دن تھا جب روپے نے سبقت حاصل کی۔
یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 281.45 روپے پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر منگل کو ایشیائی منڈیوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران دباؤ کا شکار رہا کیونکہ تاجر شرح سود کے مستقبل کے بارے میں فیڈرل ریزرو کے اراکین کے تبصروں کا تجزیہ کر رہے ہیں۔
گرین بیک (امریکی ڈالر) کی قدر میں کمی آئی، جس سے یہ پیر کو مسلسل تین دن کی برتری ختم ہونے کے بعد مزید کمزور ہوا، امریکی ڈالر انڈیکس آخری مرتبہ 97.28 پر موجود تھا۔
سرمایہ کار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں کے عالمی معیشت پر اثرات اور اس کے فیڈرل ریزرو کی پالیسی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اس ہفتے کے آخر میں بنیادی پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچرز کے اعداد و شمار جاری ہونے والے ہیں۔
کانگریس میں رواں ہفتے حکومتی شٹ ڈاؤن کو 30 ستمبر تک ٹالنے کے لیے فنڈنگ پر ہونے والی بات چیت نے مارکیٹ میں بے چینی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
تاجروں نے اکتوبر میں فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے اجلاس میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات پر اپنی توقعات محدود کردی ہیں۔ سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق فیڈ فنڈز فیوچرز 10.2 فیصد امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ شرحِ سود برقرار رکھی جائے گی، جو کہ جمعے کو 8.1 فیصد تھا۔
ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر 147.74 ین پر مستحکم رہا اور اگست کے آغاز سے اب تک طے شدہ تجارتی حدود میں ہی موجود ہے۔
تیل کی قیمتیں، جو زرِمبادلہ کی برابری کا اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، منگل کو قدرے مستحکم رہیں کیونکہ تاجروں نے مشرقِ وسطیٰ اور روس میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے اثرات پر غور کیا، جبکہ ایندھن کی طلب کو متاثر کرنے والے تجارتی محصولات سے متعلق خدشات بھی برقرار رہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز عالمی وقت کے مطابق 12 بج کر 41 منٹ پر تقریباً 66.56 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ معمولی اضافے کے ساتھ 62.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
























Comments
Comments are closed.