صدر مملکت آصف علی زرداری نے شنگھائی الیکٹرک کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان میں کمپنی کے تمام زیر التوا مسائل باہمی تعاون اور خوش اسلوبی سے حل کیے جائیں گے۔
یہ بات پیر کے روز اس وقت سامنے آئی جب صدر آصف زرداری نے شنگھائی میں شنگھائی الیکٹرک کے چیئرمین وو لی سے ملاقات کی اور بعد ازاں کمپنی کے مختلف صنعتی مراکز کا دورہ کیا۔
ایوانِ صدر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق صدر مملکت کے ہمراہ خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران چیئرمین وو لی نے پاکستان میں شنگھائی الیکٹرک کے جاری منصوبوں پر بریفنگ دی، جن میں تھر کول، نیوکلیئر انرجی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس شامل ہیں۔
صدر آصف زرداری نے پاکستان کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی و اقتصادی ترقی میں شنگھائی الیکٹرک کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے تھر کول منصوبے کی اہمیت اور کوئلہ گیس سے توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے شنگھائی الیکٹرک کو پاکستان کے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کی جدید کاری میں مزید سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
شنگھائی الیکٹرک کے سی ای او نے پاکستان میں کام کرنے والے اپنے ملازمین کو فراہم کی گئی سیکورٹی پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے بھی چینی کارکنوں کے لیے ملک میں محفوظ اور سازگار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی اقدامات کو مزید موثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دورے کے دوران صدر مملکت کو شنگھائی الیکٹرک کی تاریخ، کارکردگی اور نمایاں کامیابیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ 1902 میں قائم ہونے والی یہ کمپنی آج چین کی صفِ اول کی آلات ساز اداروں میں شامل ہے اور توانائی، بجلی اور صنعتی نظاموں میں اپنی جدت طرازی کے باعث عالمی شہرت رکھتی ہے۔
صدر زرداری نے تھر، سندھ میں کوئلہ گیسفکیشن پلانٹ کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخطوں کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ یہ معاہدہ ایم ایف ٹی سی کول گیسفکیشن اینڈ مینوفیکچرنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سی ای او شاہد تواوالا اور سائنو سندھ ریسورسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ / شنگھائی الیکٹرک کے سی ای او لن جیگن کے درمیان طے پایا ہے۔
یہ تھر کوئلے پر مبنی پہلا کوئلہ گیسفکیشن اور کھاد سازی کا منصوبہ ہے، جو نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ زرعی شعبے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
تقریب میں صوبہ سندھ کے وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور توانائی سید ناصر حسین شاہ، چین کے سفیر برائے پاکستان جیانگ زائی ڈونگ اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی بھی موجود تھے۔






















Comments
Comments are closed.