پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) جو ملک کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، نے پنجاب کے ضلع اٹک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے ہیں۔
کمپنی نے یہ پیش رفت جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے نوٹس میں ظاہر کی۔
نوٹس کے مطابق پی پی ایل جو دھوک سلطان ایکسپلوریشن لائسنس کا آپریٹر ہے نے اپنے کنویں دھوک سلطان-03 میں یہ دریافت کی۔
کنویں کی کھدائی 18 جنوری 2025 کو شروع کی گئی اور اسے 5,815 میٹر گہرائی تک ڈرل کیا گیا تاکہ پٹالہ اور لاک ہارٹ فارمیشنز میں موجود ہائیڈرو کاربن کے امکانات کو پرکھا جا سکے۔
ڈرلنگ کے نتائج اور وائر لائن لاگز کی تشریحات کے بعد ممکنہ ہائیڈرو کاربن زونز کی نشاندہی کی گئی۔
ٹیسٹنگ کے دوران کنویں سے 32/64 انچ چوک پر 1,147 پی ایس آئی جی دباؤ کے ساتھ یومیہ 1,469 بیرل تیل اور 2.56 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس جبکہ 48/64 انچ چوک پر 813 پی ایس آئی جی دباؤ کے ساتھ یومیہ 2,113 بیرل تیل اور 4.13 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس حاصل ہوگی۔
کمپنی نے مزید کہا کہ یہ دریافت پوٹھوہار–کوہاٹ سب بیسن کے وسیع اور اب تک غیر دریافت شدہ ہائیڈرو کاربن پوٹینشل کو اجاگر کرتی ہے، جسے جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال سے بہتر طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
پی پی ایل کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے نہ صرف اضافی ہائیڈرو کاربن ریزروز شامل ہوں گے بلکہ ملکی پیداوار کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ کی نمایاں بچت بھی ہوگی۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ہائیڈرو کاربن ریزروز میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ کامیاب ایکسپلوریشن اور موجودہ فیلڈز میں اوپر کی جانب ریویژن ہیں۔
دریں اثنا، ٹاپ لائن سکیورٹیز کی ایک حالیہ ریسرچ رپورٹ کے مطابق جون 2025 تک کے چھ ماہ میں پاکستان کے ہائیڈرو کاربن ریزروز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گیس کے لیے ریزرو ری پلیسمنٹ ریشو 235 فیصد رہا، جبکہ ملک کے بیلنس ریکورایبل گیس ریزروز میں 4.6 فیصد اور تیل کے ریزروز میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا۔






















Comments
Comments are closed.