BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.50 Increased By ▲ 0.76 (1.34%)
BIPL 26.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 33.95 Increased By ▲ 0.27 (0.8%)
CNERGY 10.63 Increased By ▲ 0.82 (8.36%)
DFML 18.15 Decreased By ▼ -0.37 (-2%)
DGKC 209.50 Increased By ▲ 1.63 (0.78%)
FABL 99.50 Increased By ▲ 0.60 (0.61%)
FCCL 53.75 Increased By ▲ 0.23 (0.43%)
FFL 16.50 Decreased By ▼ -0.18 (-1.08%)
GGL 23.84 Increased By ▲ 0.27 (1.15%)
HBL 302.16 Decreased By ▼ -2.23 (-0.73%)
HUBC 219.25 Increased By ▲ 1.14 (0.52%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.14 (-1.31%)
KEL 7.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.68%)
LOTCHEM 29.87 Increased By ▲ 0.76 (2.61%)
MLCF 96.30 Increased By ▲ 0.80 (0.84%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 0.05 (0.02%)
PAEL 41.90 Increased By ▲ 0.07 (0.17%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.28 (1.7%)
PIOC 297.01 Increased By ▲ 17.00 (6.07%)
PPL 220.44 Increased By ▲ 0.70 (0.32%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.30 Decreased By ▼ -1.19 (-1.11%)
SSGC 29.26 Increased By ▲ 0.33 (1.14%)
TELE 8.89 Increased By ▲ 0.13 (1.48%)
TPLP 12.56 Increased By ▲ 0.46 (3.8%)
TRG 60.26 Increased By ▲ 0.23 (0.38%)
UNITY 10.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.3%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر پیوٹن کا دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار

  • پاکستان ہمیشہ روس کا روایتی شراکت دار رہا ہے، اور ایشیا میں آج بھی ہے، صدر پیوٹن
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے منگل کے روز چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ملاقات کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

ملاقات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے پاک روس تعلقات کو فروغ دینے کے لیے صدر پیوٹن کی قیادت اور خلوصِ نیت پر مبنی کوششوں کو سراہا۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قازقستان کے شہر آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

وزیراعظم نے اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک مل کر تجارت اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس پاکستان نے روس سے تیل درآمد کیا، جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا۔

روسی صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ”گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور اس میں آپ کی ذاتی دلچسپی اور وابستگی کا کلیدی کردار ہے۔“

یہ ملاقات پاک روس تعلقات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس کے مستقبل میں توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کے میدان میں مثبت اثرات متوقع ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے اور یہ تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ آستانہ میں گزشتہ ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور زراعت، لوہے و فولاد، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد پروٹوکولز پر دستخط کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے بیلاروس، روس، قازقستان، ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان مجوزہ تجارتی راہداری کو علاقائی روابط اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادتیں دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہیں، اور پاکستان روس کی حمایت پر شکر گزار ہے، جسے انہوں نے خطے میں توازن پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان روس کے بھارت سے تعلقات کا احترام کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان خود بھی روس کے ساتھ مضبوط، تکمیلی اور تعمیری تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بامعنی تعلقات خطے کی ترقی و خوشحالی میں مددگار ثابت ہوں گے، اور انہوں نے صدر پیوٹن کو یقین دلایا کہ وہ اس تناظر میں قریبی تعاون جاری رکھیں گے، کیونکہ انہوں نے روسی صدر کو ایک متحرک اور فعال رہنما پایا ہے۔

وزیراعظم نے روسی صدر کی جانب سے نومبر میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دورے کے منتظر ہیں۔

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایک سال قبل آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی تھی، اور اُس وقت بھی دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ”پاکستان ہمیشہ سے ہمارا روایتی شراکت دار رہا ہے اور ایشیا میں آج بھی ہماری اہم ترجیح ہے۔ ہم ان تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔“

صدر پیوٹن نے تسلیم کیا کہ دوطرفہ تجارت میں مزید اضافے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے حالیہ سیلاب سمیت دیگر قدرتی آفات کے باعث پاکستانی عوام اور حکومت کو جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ ”وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان ان چیلنجز پر قابو پا لے گا۔“

روسی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بین الپارلیمانی سطح پر بھی تعاون جاری ہے۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے، اور دونوں ممالک اقوام متحدہ جیسے اہم عالمی فورم پر بھی قریبی روابط قائم رکھے ہوئے ہیں۔

صدر پیوٹن نے وزیراعظم شہباز شریف کو نومبر میں روس میں ہونے والے ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

ملاقات کے موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود بھی موجود تھے۔

Comments

Comments are closed.