BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

یونائیٹڈ بزنس گروپ کےسرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے کنزیومر پرائس انڈیکس کی شرح 3 فیصد کی نمایاں کمی کے بعد شرح سود کو کم از کم 6 فیصد تک لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افراطِ زر قابو میں آنے کے باوجود اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود 11 فیصد برقرار رکھنا معاشی طور پر درست نہیں۔

ان کے مطابق موجودہ بلند شرح سود کی وجہ سے حقیقی شرح سود کا فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہےجو صنعتی پیداوار اورمجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

ایس ایم تنویر نے بتایا کہ شرح سود میں کمی کے ذریعے صنعتی ترقی کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہےروزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،برآمدات میں مسابقت بڑھے گی،سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور حکومت کے بھاری قرضوں کے بوجھ جو اس وقت 3.5 کھرب روپے سے زائد ہیں اس میں بھی کمی واقع ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ اسٹیٹ بینک فوری طور پر شرح سود میں کمی کرے تاکہ کاروباری اعتماد بحال ہو اور ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہو انکامزید کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام صنعتی و تجارتی چیمبرز سمیت تجارتی تنظیموں اور بزنس لیڈرز کو متحد ہو کرترقی پسند اور حقیقت پسندانہ اقتصادی پالیسی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.