BR100 Increased By (0.88%)
BR30 Increased By (1.28%)
KSE100 Increased By (0.57%)
KSE30 Increased By (0.6%)
BAFL 58.59 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 25.52 Increased By ▲ 0.32 (1.27%)
BOP 34.42 Increased By ▲ 0.43 (1.27%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.09 (1.11%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 196.00 Increased By ▲ 3.03 (1.57%)
FABL 89.79 No Change ▼ 0.00 (0%)
FCCL 53.70 Increased By ▲ 0.87 (1.65%)
FFL 18.13 Increased By ▲ 0.18 (1%)
GGL 19.78 Increased By ▲ 0.81 (4.27%)
HBL 287.00 Increased By ▲ 1.50 (0.53%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.98 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.57 Decreased By ▼ -0.32 (-1.15%)
MLCF 87.50 Increased By ▲ 0.99 (1.14%)
OGDC 324.25 Increased By ▲ 4.29 (1.34%)
PAEL 39.75 Increased By ▲ 0.33 (0.84%)
PIBTL 17.50 Increased By ▲ 0.83 (4.98%)
PIOC 270.88 Increased By ▲ 4.82 (1.81%)
PPL 230.30 Increased By ▲ 2.12 (0.93%)
PRL 34.98 Increased By ▲ 0.30 (0.87%)
SNGP 99.50 Increased By ▲ 0.32 (0.32%)
SSGC 27.24 Increased By ▲ 0.64 (2.41%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.37 (4.47%)
TPLP 8.74 Increased By ▲ 0.52 (6.33%)
TRG 71.49 Increased By ▲ 1.78 (2.55%)
UNITY 11.66 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

یونائیٹڈ بزنس گروپ کےسرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے کنزیومر پرائس انڈیکس کی شرح 3 فیصد کی نمایاں کمی کے بعد شرح سود کو کم از کم 6 فیصد تک لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افراطِ زر قابو میں آنے کے باوجود اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود 11 فیصد برقرار رکھنا معاشی طور پر درست نہیں۔

ان کے مطابق موجودہ بلند شرح سود کی وجہ سے حقیقی شرح سود کا فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہےجو صنعتی پیداوار اورمجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

ایس ایم تنویر نے بتایا کہ شرح سود میں کمی کے ذریعے صنعتی ترقی کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہےروزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،برآمدات میں مسابقت بڑھے گی،سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور حکومت کے بھاری قرضوں کے بوجھ جو اس وقت 3.5 کھرب روپے سے زائد ہیں اس میں بھی کمی واقع ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ اسٹیٹ بینک فوری طور پر شرح سود میں کمی کرے تاکہ کاروباری اعتماد بحال ہو اور ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہو انکامزید کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام صنعتی و تجارتی چیمبرز سمیت تجارتی تنظیموں اور بزنس لیڈرز کو متحد ہو کرترقی پسند اور حقیقت پسندانہ اقتصادی پالیسی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.