یونائیٹڈ بزنس گروپ کےسرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے کنزیومر پرائس انڈیکس کی شرح 3 فیصد کی نمایاں کمی کے بعد شرح سود کو کم از کم 6 فیصد تک لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افراطِ زر قابو میں آنے کے باوجود اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود 11 فیصد برقرار رکھنا معاشی طور پر درست نہیں۔
ان کے مطابق موجودہ بلند شرح سود کی وجہ سے حقیقی شرح سود کا فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہےجو صنعتی پیداوار اورمجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
ایس ایم تنویر نے بتایا کہ شرح سود میں کمی کے ذریعے صنعتی ترقی کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہےروزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،برآمدات میں مسابقت بڑھے گی،سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور حکومت کے بھاری قرضوں کے بوجھ جو اس وقت 3.5 کھرب روپے سے زائد ہیں اس میں بھی کمی واقع ہوگی۔
انہوں نے زور دیا کہ اسٹیٹ بینک فوری طور پر شرح سود میں کمی کرے تاکہ کاروباری اعتماد بحال ہو اور ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہو انکامزید کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام صنعتی و تجارتی چیمبرز سمیت تجارتی تنظیموں اور بزنس لیڈرز کو متحد ہو کرترقی پسند اور حقیقت پسندانہ اقتصادی پالیسی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.