BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
دنیا

افغانستان زلزلہ: 800 افراد جاں بحق، 2,800 زخمی؛ طالبان کی عالمی برادری سے امداد کی اپیل

طالبان حکام نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ افغانستان کی حالیہ تاریخ کے بدترین زلزلوں میں سے ایک نے 800 سے زائد افراد...
شائع September 1, 2025 اپ ڈیٹ September 1, 2025 08:41pm

طالبان حکام نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ افغانستان کی حالیہ تاریخ کے بدترین زلزلوں میں سے ایک نے 800 سے زائد افراد کی جان لے لی اور کم از کم 2,800 افراد زخمی ہو گئے۔ پہاڑی علاقوں کے دشوار گزار راستوں اور خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

یہ قدرتی آفت پہلے ہی غیر ملکی امداد میں کمی، پڑوسی ممالک کی جانب سے افغان مہاجرین کی جبری واپسی اور دیگر معاشی مسائل سے دوچار طالبان حکومت کے لیے وسائل پر ایک اور بڑا دباؤ بن گئی ہے۔

کابل میں وزارت صحت کے ترجمان شرافت زمان نے زلزلے سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ”ہمیں بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے، کیونکہ یہاں بہت سے لوگ جان سے گئے اور ان کے گھر تباہ ہو گئے ہیں۔“

زلزلہ مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کے قریب آیا، جس کی شدت 6.0 اور گہرائی 10 کلومیٹر (تقریباً 6 میل) تھی۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق زلزلے کے باعث کنڑ اور ننگرہار کے مشرقی صوبوں میں 812 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

ضیاء الحق محمدی، جو مشرقی شہر جلال آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں، نے بتایا کہ جب زلزلہ آیا تو وہ اپنے گھر میں مطالعہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”میں اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر زلزلے کے شدید جھٹکوں نے مجھے زمین پر گرا دیا۔“

انہوں نے بتایا کہ ”ہم نے پوری رات خوف اور بے چینی میں گزاری، کیونکہ کسی بھی لمحے ایک اور زلزلہ آ سکتا تھا۔“

ریسکیو ٹیمیں پاکستانی سرحد سے متصل دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں، جہاں مٹی سے بنے گھروں کے نیچے دب کر کئی خاندان متاثر ہوئے۔ یہ علاقے موبائل نیٹ ورک سے بھی کٹے ہوئے ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد ( یو این او سی ایچ اے) کی افسر کیٹ کیری نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ”زلزلے سے متاثرہ علاقے میں گزشتہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارشیں ہوئیں، جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور چٹانیں سرکنے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے، اسی وجہ سے کئی راستے ناقابلِ رسائی ہو چکے ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو ٹیمیں اور مقامی حکام جانوروں کی لاشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگا رہے ہیں تاکہ پانی کے ذرائع آلودگی سے محفوظ رہ سکیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے امدادی ٹیمیں دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کریں گی، اموات اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

وزارتِ صحت کے ترجمان عبدالمتین قانع نے کہا کہ ”ہماری تمام ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے اور متاثرین کو ہر ممکن اور جامع مدد فراہم کی جا سکے، چاہے وہ سیکیورٹی ہو، خوراک یا طبی امداد۔“

رائٹرز ٹیلی ویژن کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ ہیلی کاپٹر متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، جبکہ مقامی رہائشی سیکیورٹی اہلکاروں اور طبی عملے کے ساتھ مل کر زخمیوں کو ایمبولینسوں تک پہنچانے میں مدد دے رہے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ماضی میں بھی زلزلوں اور سیلاب جیسے قدرتی آفات سے کئی بار متاثر ہو چکا ہے۔

وزارتِ صحت کے ترجمان شرافت زمان نے عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور اسپتالوں میں زخمیوں کو سنبھالنے کی گنجائش کم پڑ گئی ہے۔ فوجی ریسکیو ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے اور اب تک 40 پروازوں کے ذریعے 420 زخمی اور لاشوں کو منتقل کیا جا چکا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یو این مشن متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چین نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کی ضروریات کے مطابق امداد فراہم کرے گا۔ تاہم افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق اب تک کسی بھی غیر ملکی حکومت نے براہِ راست امدادی کاموں کے لیے رابطہ نہیں کیا۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ تیسرا بڑا ہلاکت خیز زلزلہ ہے۔ 2022 میں صوبہ پکتیکا اور خوست میں آنے والے 6.1 شدت کے زلزلے میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ افغانستان ایک نظرانداز انسانی بحران کا شکار ہے جہاں نصف سے زیادہ آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، لیکن عالمی فنڈنگ میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان کا جغرافیہ اسے زلزلوں کے شدید خطرات سے دوچار رکھتا ہے، خاص طور پر ہندوکش پہاڑی سلسلے میں، جہاں بھارتی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹس آپس میں ملتی ہیں۔

Comments

Comments are closed.