وزیراعظم شہباز شریف ہفتہ کو صدر شی جن پنگ کی دعوت پر چین کے شہر تیانجن روانہ ہوگئے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح قیادت کے مسلسل تبادلوں کا حصہ ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ دورہ اس امر کا عکاس ہے کہ دونوں ممالک اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات پر حمایت کے عزم کو دہرانے، سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے اور اہم علاقائی و عالمی امور پر رابطہ برقرار رکھنے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔
شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور بیجنگ میں پاک-چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے علیحدہ ملاقاتیں کریں گے جن میں پاک-چین دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
شہباز شریف معروف چینی سرمایہ کاروں اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ دوطرفہ تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی جاسکے۔
واضح رہے کہ 21 اگست کو چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران شہباز شریف نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی ترقی کے تحفظ میں بیجنگ کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا تھا اور چین کے بنیادی مسائل پر پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا تھا۔





















Comments
Comments are closed.