اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعرات کو یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کی بندش کے سلسلے میں 30.216 ارب روپے کا تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ منظور کرلیا۔
فنانس ڈویژن کے مطابق یہ فیصلہ یو ایس سی کے طویل مدتی مالی بوجھ کو ذمہ داری کے ساتھ ختم کرنے اور بندش سے متاثر ہونے والے ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ڈویژن نے مزید کہا کہ سیورینس پیکج، معاوضے اور بقایا واجبات کی ادائیگی کے ذریعے حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ملازمین کو ان کے جائز حقوق فراہم کیے جائیں۔
حکومت ملکیت والی یو ایس سی نے 31 جولائی 2025 کو تمام شاپس میں اپنی کارروائیاں بند کر دی تھیں۔
ای سی سی نے میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار یو ایس سی کی بندش کے لیے مالی ضروریات کو مزید معقول بنائے اور یو ایس سی کی جائیدادوں سمیت تمام اثاثے موجودہ مالی سال کے دوران فروخت کیے جائیں تاکہ بندش کے اخراجات جزوی طور پر فروخت کی آمدنی سے پورے کیے جا سکیں۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یو ایس سی کی بندش منظم، شفاف اور مرحلہ وار ہو جس میں جائیدادوں کی فروخت کے ذریعے واجبات کی جزوی ادائیگی بھی شامل ہو۔
بیان میں کہا گیا کہ منظور شدہ مالی پیکج اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت یو ایس سی کی بندش کے دوران ملازمین کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے ساتھ مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
اجلاس کی صدارت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی جس میں وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں، محکموں و ریگولیٹری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔






















Comments
Comments are closed.