پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے بدھ کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جب یہ انکشاف ہوا کہ ادارے نے ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد عوامی فنڈز کو قلیل مدتی سرمایہ کاری میں منتقل کر دیا، حالانکہ قانون کے مطابق یہ رقم وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرنی لازمی تھی۔
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، جس میں پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کے مالی سال 24-2023 کے آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ آڈیٹرز نے واضح کیا کہ اوگرا نے اوگرا آرڈیننس 2002 اور وفاقی مالیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی محصولات کو سرمایہ کاری، عمارتوں کی تعمیر، گاڑیوں کی خریداری اور دیگر اخراجات پر استعمال کیا، حالانکہ ان کے لیے الگ بجٹ مختص ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوگرا نے مالی سال 23-2022 میں 23 کروڑ 20 لاکھ روپے سرپلس جمع نہ کرائے اور اسے آپریشنل اخراجات میں لگا دیا۔ آڈیٹر جنرل نے اسے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ پالیسی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کی کہ اوگرا قلیل مدتی سرمایہ کاری ختم ہونے پر مکمل 1.4 ارب روپے وفاقی خزانے میں جمع کرائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم اوگرا کی نہیں کہ وہ اس سے کھیل سکے۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گاڑیوں کی خریداری پر حکومتی پابندی کے باوجود اوگرا نے 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کی گاڑیاں رسیدوں کے ذریعے خرید لیں۔ رکن کمیٹی سید حسین طارق نے اس اقدام کو غیر قانونی اور ناقابل جواز قرار دیا۔
اجلاس کے دوران سیاسی کشمکش بھی چھائی رہی، جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تمام ارکان نے اپنے قائد عمران خان کی ہدایت پر پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا۔ پی اے سی میں شامل پی ٹی آئی اراکین نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ رکن قومی اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل نے اجلاس میں مختصر شرکت کر کے استعفوں کا اعلان کیا اور کہا کہ تمام ارکان جلد اس فیصلے پر عمل کریں گے۔
علاوہ ازیں کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی آڈٹ رپورٹ موخر کر دی کیونکہ چیئرمین محسن نقوی غیر ملکی مہمانوں میں مصروف تھے۔ کابینہ ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ کے جائزے میں سیکرٹری کابینہ ڈویژن کامران علی افضل نے انکشاف کیا کہ توشہ خانہ کا 1997 سے قبل کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ قواعد کے فقدان کی وجہ سے بعض اوقات تحائف براہِ راست افسران کو دے دیے گئے، تاہم نئی قانون سازی زیر غور ہے جس کے تحت عوامی عہدہ رکھنے والوں کو غیر ملکی تحائف قبول کرنے سے روکا جائے گا۔
سیکرٹری نے مزید بتایا کہ توشہ خانہ کے تحائف کی نجی سطح پر جانچ کے لیے تاحال کوئی بولی نہیں آئی، تاہم مستقبل میں نجی ایولیویٹرز کو مدعو کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.