پاکستان رائس روڈ شو 2025 کا آغاز گھانا کے دارالحکومت اکرا میں ہوگیا جس میں پاکستان کے 28 بڑے رائس ایکسپورٹرز اور گھانا کے 200 سے زائد خریداروں نے شرکت کی۔ یہ ایونٹ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔
تقریب میں ڈائریکٹر جنرل (ایگرو) ٹڈاپ اطہر حسین کھوکھر اور پاکستان کے ہائی کمشنر نجيب درانی نے خطاب کیا۔
اطہر حسین کھوکھر نے کہا کہ پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا رائس ایکسپورٹر ہے اور گھانا سمیت مغربی افریقہ کی فوڈ سیکیورٹی کیلئے مضبوط تجارتی شراکت داری قائم کرنے کا خواہاں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ چاول صرف ایک بنیادی غذا نہیں بلکہ کمیونٹیز کی دھڑکن ہیں۔ پاکستان کے چاول کی برآمدات 2024-25 میں عالمی سطح پر 5.5 ملین میٹرک ٹن تک پہنچیں، جن کی مالیت 3.2 بلین ڈالر ہے۔ ہم یہاں طویل المدتی شراکت داری قائم کرنے اور گھانا میں غذائی تحفظ اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے موجود ہیں۔
پاکستان کے ہائی کمشنر نجیب درانی نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ اس روڈ شو سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی جہت ملے گی۔
تقریب میں پاکستانی باسمتی اور دیگر رائس ورائٹیز متعارف کرائی گئیں جو مقامی مشہور پکوانوں جیسے جولوف اور واکئے کے لیے موزوں ہیں۔
اس موقع پر طویل مدتی تجارتی شراکت داری، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور زرعی تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔
پاکستان رائس روڈ شو 2025 کا یہ سلسلہ گھانا کے بعد کوٹ دیوواغ (28 تا 29 اگست) اور سینیگال (1 تا 2 ستمبر) میں بھی جاری رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.