BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)
رائے

بلند منصب، کوتاہ نظر

شائع اپ ڈیٹ

رہنمائی… عروج… ترقی… سمت کا تعین… پیش قدمی… تبدیلی… گوشہ نشینی… منظر سے اوجھل ہونا… اور آخرکار زوال۔ کیا یہ قیادت کا ایک فطری چکر ہے؟ کیا یہ وہی عام سا مد و جزر ہے جو دنیا کے رہنماؤں کی زندگیوں میں دہرایا جا رہا ہے؟ کیا یہ ایک ایسا ستارہ ہے جو چمکنے کے لیے پیدا ہوتا ہے اور پھر ایک گرتے ہوئے شہابِ ثاقب کی طرح اپنی چمک کھو دیتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو موجودہ دور کی قیادت کے اُفق پر ابھر رہے ہیں۔

ہم ایسے کرشماتی رہنماؤں کو دیکھتے ہیں جو کمپنیوں، فورمز اور پوڈکاسٹس میں جلوہ گر ہوتے ہیں، اور چند ہی دنوں میں منظرِ عام پر چھا جاتے ہیں۔ وہ تخلیق کا سرچشمہ بن جاتے ہیں۔ ان کے اقوال دہرائے جاتے ہیں۔ ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ انہیں پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔ انہیں اعزازات دیے جاتے ہیں۔ پھر شروع ہوتا ہے ایک اور مرحلہ:سرگوشیاں، چہ میگوئیاں، افواہیں، سوالات، حیرت… اور پھر صرف راکھ باقی رہ جاتی ہے۔ کارلوس غسن کا معاملہ، جس نے ری نالٹ کو ایک نئی زندگی دی، کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ وہ آیا، اُس نے چمک دکھائی، نتائج دیے، پھر وہ منظر سے غائب ہوا،مایوسی کا باعث بنا،اور آخرکار گرفتار ہوا۔

رہنماؤں کو بلند مقام پر فائز کیا جاتا ہے، ایک ایسا مقام جو عزت کا بھی ہوتا ہے اور آزمائش کا بھی۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا رہنما خود پھسلتے ہیں یا انہیں دھکیلا جاتا ہے؟ کیا رہنما جانتے ہیں کہ وہ سب کچھ نہیں جانتے؟ کیا رہنما خود گرنا چاہتے ہیں؟ آخری سوال کا جواب دینا نسبتاً آسان ہے، شاید ہی کوئی رہنما ایسا ہو جو خود گرنے کی خواہش رکھتا ہو۔ پھر بھی، بہت سے رہنما گرتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندھے گوشوں ( بلائنڈ اسپاٹس) کو پہچانیں اور ایسے اقدامات کریں جو انہیں ان ہی اندھی کھائیوں میں گرنے سے بچا سکیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ جتنا اونچا مقام آپ حاصل کرتے ہیں، اتنے ہی زیادہ تنہا ہو جاتے ہیں۔ آپ کے اردگرد ہجوم ہوتا ہے، مگر آپ پھر بھی تنہا ہوتے ہیں۔آپ کی ٹیم میں کئی لوگ ہوتے ہیں، مگر کیا وہ واقعی وہ لوگ ہیں جو آپ کو سچائی سے آگاہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں؟اور اگر وہ سچ بولیں بھی،تو کیا رہنما اس سچائی کی قدر کرے گا، یا اس پر ردِعمل دکھائے گا؟ یہ سوالات خود میں بہت بڑے چیلنجز چھپائے ہوئے ہیں۔ کامیابی اور ترقی کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور اکثر یہ قیمت تنہائی، عدمِ اعتماد اور خود فریبی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

جو رہنما بلندیوں کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے،اس کے گرد اکثر ایسے چاپلوس جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی کامیابی کی چمک سے خود کو روشن کرنا چاہتے ہیں۔ یہی افراد، بظاہر قیادت کی ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اصل میں ان کا مقصد اس قربت سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے،نہ کہ رہنما کو سچائی کا آئینہ دکھانا۔

ہر انسان میں ایک ”اندھا گوشہ“ (بلائنڈ اسپاٹ) ہوتا ہے، ایک ایسا مقام جہاں نظر خودبخود ماند پڑ جاتی ہے۔ جذباتی طور پر باشعور رہنما عام طور پران اندھے گوشوں سے آگاہ ہوتے ہیں، اور ان سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر جذباتی فہم و فراست آج بھی قیادت کی دنیا میں نایاب ہےاور اکثر رہنما ابھی بھی اپنی ہی کمزوریوں سے ناواقف ہیں۔ قیادت کے چند عام اندھے گوشے یہ ہو سکتے ہیں:

پہلا اندھا گوشہ ”میں سب کے لیے دستیاب ہوں“

“میری تو اوپن ڈور پالیسی ہے!“یہ جملہ ہم کتنی بار رہنماؤں کی زبان سے فخر کے ساتھ سنتے ہیں؟ وہ بار بار دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت دستیاب ہیں، ان سے بآسانی ملا جا سکتا ہے، اور وہ اپنی ٹیم کے ہر فرد کو وقت اور توجہ دینے کو تیار رہتے ہیں۔ کچھ علامتی اقدامات بھی کیے جاتے ہیں، جیسے شیشے کی دیواروں والے دفاتر میں بیٹھنا، یا ٹیم کے ساتھ ایک ہی منزل پر رہنا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ لیڈر بالکل ”قابل رسائی“ ہے۔

مگر رہنما اس اندھے گوشے سے غافل ہوتا ہے کہ لوگ اُس کے قریب آنے سے جھجکتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ جب کوئی اس سے ملنے آتا ہے تو وہ اکثر بےچینی، عدم برداشت یا مصروفیت کا تاثر دیتا ہے، جیسے اس کے پاس اس بات چیت سے زیادہ اہم کام ہیں۔

پھر جب اسے بتایا جاتا ہے کہ لوگ اسے دور اور لاتعلق محسوس کرتے ہیں، تو وہ حیران رہ جاتا ہے۔ وہ مسلسل یہی دہراتا رہتا ہے کہ اُس کا دروازہ تو کھلا ہے! لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ مسئلہ دفتر کے دروازے کا نہیں، بلکہ اُس کے دل اور دماغ کے دروازے کا ہے، جو بند ہیں۔ یہی وہ بند دروازے ہیں جو وقت کے ساتھ قیادت اور ٹیم کے درمیان فاصلہ پیدا کرتے ہیں اور آخرکار ادارہ اپنے بہترین اور باصلاحیت لوگ کھو دیتا ہے، وہ لوگ جو سنے نہ گئے، سمجھے نہ گئے اور آخرکار بےزار ہو کر چل دیے۔

دوسرا اندھا گوشہ ”میں لوگوں کو بااختیار بناتا ہوں اور ان پر اعتماد کرتا ہوں“

ایک اور عام قیادت کی غلط فہمی یہ ہے کہ ”میں اپنی ٹیم کو خود مختاری دیتا ہوں، میں لوگوں کو کام کرنے کی جگہ دیتا ہوں۔“ رہنما ایسے رویے کا مظاہرہ کرتا ہے کہ وہ میٹنگز بلاتا ہے، مینیجرز کو حوصلہ دیتا ہے کہ وہ جرات مندانہ فیصلے کریں۔ مینیجرز بھی کچھ اقدامات کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر منظوری کے لیے واپس آ جاتے ہیں۔ مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ رہنما منظوری دینے میں تاخیر کرتا ہے، سوالات اٹھاتا ہے، خطرات کیا ہیں؟ امکانات کیا ہیں؟ یہ سب پوچھتا ہے۔

یہ تاخیر نہ صرف منصوبے کو پرانا کر دیتی ہے، بلکہ ٹیم میں مایوسی پیدا کرتی ہے۔ اور یہ تاخیر ایک تاثر پیدا کرتی ہے کہ رہنما باتوں میں تو بڑا ہے، مگر عملی طور پر اپنی ٹیم کی پشت پناہی کرنے میں کمزور ہے۔ یہ ایک عام مسئلہ ہے اُن رہنماؤں کے ساتھ جو لمحے کے جوش میں بڑے دعوے کر لیتے ہیں،مگر جب بات عمل کی آتی ہے تو جرات نہیں دکھاتے کہ اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑے ہوں۔

تیسرا اندھا گوشہ ”میں لوگوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دیتا ہوں“

آج کے دور کے بہت سے رہنماؤں کا بڑا نعرہ ہے کہ ”ملازمین کی فلاح و بہبود سب سے بڑی ترجیح ہے“۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر کمپنی میں ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کمیٹیاں اور شعبے بنائے جا رہے ہیں۔ رہنما فخر سے بات کرتے ہیں کہ کمپنی نے ملازمین کے بچوں کے لیے کھیل کے میدان بنائے ہیں اور مختلف سہولیات فراہم کی ہیں۔ یہ سب قابلِ تعریف اقدامات ہیں۔ مگر دوسری جانب، وہی سی ای او کام کے اوقات کے بعد پیغامات بھیجتا ہے، اور توقع کرتا ہے کہ ملازمین ان غیر اوقات میں جواب دیں گے۔ صبح کو وہ کام اور زندگی کے توازن کی بات کرتا ہے اور شام کو مختلف ای میلز اور میسجز بھیج کر خاندان کی زندگی پر دباؤ ڈالتا ہے۔

چوتھا اندھا گوشہ ”میں سب کے ساتھ منصفانہ اور مساوی سلوک کرتا ہوں“

رہنماؤں کا ایک عام خودساختہ تصور یہ ہوتا ہے کہ ”میں ہر فرد کے ساتھ انصاف اور مساوات پر مبنی سلوک کرتا ہوں۔“ وہ ہمیشہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ تمام فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں اور وہ فخر سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے کوئی ”پسندیدہ“ (فیوریٹس) نہیں ہیں۔ لیکن وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ صرف رسمی دفتری رویہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا، بلکہ غیر رسمی وقت، جیسے دوپہر کا کھانا، آرام کے لمحات، یا دفاتر کے باہر کی ملاقاتیں، بھی ٹیم کے لیے بہت اہم اشارے بن جاتے ہیں۔

یہی بات چہ میگوئیوں کا سبب بنی۔ لوگوں کو یوں محسوس ہونے لگا کہ رہنما کا اُن مخصوص افراد کے لیے نرم گوشہ ہے۔ روزانہ انہی تین افراد کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ اور کھانے کا معمول، باقی ٹیم کی نظر میں ”پسندیدگی“ (فیورٹ ازم) کا لیبل بن گیا۔ زیادہ تر رہنما غیر رسمی میل جول کو نظر انداز کر دیتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کام کے وقت سب سے برابری سے پیش آ رہے ہیں تو کافی ہے۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ قیادت میں ہر قدم، ہر ادا، ہر انداز زیرِ نظر ہوتا ہے۔ ایک کمپنی ایونٹ میں، جہاں رہنما بطور مہمانِ خصوصی انعامات دے رہا تھا،لوگوں نے شکایت کی کہ اُس نے ایک ”پسندیدہ“ ملازم کو ایوارڈ دیتے وقت خوش دلی سے مسکرایا جبکہ دوسرے ملازم کو انعام دیتے وقت چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ یہ باتیں بظاہر معمولی لگتی ہیں،مگر حقیقت میں یہ ہی وہ چھوٹے لمحات ہوتے ہیں جوٹیم اور رہنما کے درمیان جذبے، بھروسے اور وابستگی کو کمزور کرتے ہیں۔ ایک موقع پر ایک رہنما نے دفتری اوقات میں تمام ملازمین سے یکساں فاصلہ رکھ کر اچھا تاثر دیا،مگر ہر دوپہر وہ انہی تین مخصوص افراد کے ساتھ لنچ پر بیٹھا پایا گیا۔ یہ غیر رسمی قربت، باقی ٹیم کے لیے ایک خاموش پیغام بن گئی کہ ”برابر“ سب نہیں ہیں۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عظیم رہنماؤں کے کوئی اندھے گوشے نہیں ہوتے؟ کیا متاثر کن رہنما بے عیب ہوتے ہیں؟ نہیں، ہرگز نہیں۔وہ بھی دیگر رہنماؤں کی طرح غلطیاں کرنے کے امکان رکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ اپنی عدم واقفیت سے آگاہ ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ نہیں جانتے۔ اسی لیے وہ ہمیشہ ایسے لوگوں سے رائے لیتے ہیں جو ایماندار اور غیر جانبدار ہوں۔

وہ اپنی کارکردگی پر ہر زاویے سے — اوپر، نیچے اور ہم منصبوں سے — 360 درجے کی رائے لیتے ہیں۔ وہ اپنے رویوں میں بہتری کے لیے کوچنگ سے مدد حاصل کرتے ہیں۔ نہ وہ دفاعی رویہ اختیار کرتے ہیں، نہ ہی بات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ وہ اپنے اندھے گوشوں سے اندھے نہیں ہوتے۔

غیر شناخت شدہ اور انجانے اندھے گوشے، کارپوریٹ جہاز کو ڈبونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ نیت کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو، کوششیں رائیگاں جا سکتی ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: نیت اور اثر کے درمیان کا خلا ہی اندھا گوشہ ہوتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر،2025

Comments

Comments are closed.