BR100 Increased By (0.71%)
BR30 Increased By (1.01%)
KSE100 Increased By (0.45%)
KSE30 Increased By (0.47%)
BAFL 58.59 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 25.58 Increased By ▲ 0.38 (1.51%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.19 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 195.58 Increased By ▲ 2.61 (1.35%)
FABL 89.96 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
FCCL 53.66 Increased By ▲ 0.83 (1.57%)
FFL 18.15 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.12 Increased By ▲ 0.10 (1.25%)
LOTCHEM 27.70 Decreased By ▼ -0.19 (-0.68%)
MLCF 87.40 Increased By ▲ 0.89 (1.03%)
OGDC 323.40 Increased By ▲ 3.44 (1.08%)
PAEL 39.90 Increased By ▲ 0.48 (1.22%)
PIBTL 17.50 Increased By ▲ 0.83 (4.98%)
PIOC 268.97 Increased By ▲ 2.91 (1.09%)
PPL 229.58 Increased By ▲ 1.40 (0.61%)
PRL 34.80 Increased By ▲ 0.12 (0.35%)
SNGP 99.79 Increased By ▲ 0.61 (0.62%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.48 (1.8%)
TELE 8.60 Increased By ▲ 0.32 (3.86%)
TPLP 8.58 Increased By ▲ 0.36 (4.38%)
TRG 70.35 Increased By ▲ 0.64 (0.92%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک نے جدید پرزم پلس نظام ادائیگی کا باضابطہ آغاز کردیا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جدید ترین پرزم پلس نظام ادائیگی کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے...
شائع August 19, 2025 اپ ڈیٹ August 19, 2025 01:31pm

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے جدید ترین پرزم پلس نظام ادائیگی کا باضابطہ آغاز کر کے ملک کے مالیاتی نظام کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ یہ نظام نہ صرف ادائیگیوں کی رفتار اور شفافیت کو بڑھائے گا بلکہ بینکنگ، فِن ٹیک اور ای-کامرس کے شعبوں میں ڈیجیٹل انقلاب کو مزید فروغ دے گا، جس سے صارفین اور کاروباری اداروں کو جدید سہولیات میسر آئیں گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے منگل کو منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے قبل ازیں پاکستان کا فوری ادائیگی نظام راست متعارف کرایا تھا، اور آج کے آغاز کے ساتھ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں ریٹیل اور بڑی مالیت کی ادائیگیوں کے نظام جدید ترین آئی ایس او اسٹینڈرڈ پر مبنی ہیں۔

مرکزی بینک کے سربراہ نے اس پروجیکٹ کو عملی شکل دینے میں عالمی بینک کے تعاون کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمارا مالیاتی منظرنامہ ادائیگیوں، فِن ٹیک، ای-کامرس اور بینکنگ کے شعبوں میں تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہا ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ جدت نہ صرف خدمات کی فراہمی میں تبدیلی لا رہی ہے بلکہ صارفین کی ترجیحات میں بھی اثر ڈال رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ ڈیجیٹلائزیشن کا مظہر ریٹیل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے یعنی راست کے ابھرنے میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

راست پاکستان کا پہلا فوری ادائیگی نظام ہے جو افراد، کاروبار اور سرکاری اداروں کے درمیان مکمل ڈیجیٹل ادائیگیوں کو لمحوں میں ممکن بنائے گا۔

گورنر نے بتایا کہ پاکستان میں 225 ملین سے زائد بینک اکاؤنٹ ہولڈرز اور ڈیجیٹل والٹ ہولڈرز موجود ہیں، جن میں تقریباً 96 ملین منفرد ہیں۔ “ہمارے پاس کمرشل بینکوں کی بینکنگ ایپس کے 28 ملین رجسٹرڈ صارفین، برانچ لیس بینکنگ ایپس کے 71 ملین صارفین اور انٹرنیٹ بینکنگ پلیٹ فارم کے 17 ملین صارفین ہیں۔

مرکزی بینک کے سربراہ نے رئیل ٹائم گروس سیٹلمنٹ (آر ٹی جی ایس) پر بھی روشنی ڈالی، جو بینکوں کے درمیان بڑی رقموں کی حقیقی وقت میں منتقلی کا نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نظام لیکویڈیٹی کے بہاؤ کو یقینی بناتا ہے اور اوپن مارکیٹ آپریشنز (او ایم او) کے ذریعے مانیٹری پالیسی کے نفاذ میں معاونت فراہم کرتا ہے جبکہ مالیاتی خلل کے خطرات کو کم کرتا ہے۔

جمیل احمد نے پرزم (پاکستان ریئل ٹائم انٹر بینک سیٹلمنٹ میکنزم) کے حوالے سے بتایا کہ 2024 میں اس کے ذریعے 1,043 کھرب روپے کے لین دین کی پروسیسنگ ہوئی، جو ملکی جی ڈی پی کے دس گنا کے برابر ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پرزم کس حد تک وسیع مالیاتی صنعت، خاص طور پر کاروباری شعبے کی معاونت کرتا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پرزم پلس جدید عالمی معیار ISO 20022 پر مبنی ہے جو مالیاتی لین دین میں شفافیت، سیکورٹی اور باہمی ربط کو مزید مضبوط کرے گا۔

اس نظام میں لیکویڈیٹی مینجمنٹ ٹولز، مستقبل کی ادائیگیوں کی شیڈولنگ اور مرکزی سیکیورٹیز ڈپازٹری کے ساتھ مربوط فیچرز شامل ہیں، جو نیلامیوں، کولیٹرل مینجمنٹ اور اوپن مارکیٹ آپریشنز کو مزید سہل بنائیں گے۔

جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کا ادائیگی کا نظام اب عالمی بہترین معیارات کے برابر کھڑا ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ جب ہم اپنے ڈیجیٹل ادائیگی کے انفرااسٹرکچر کو بڑھا رہے ہیں، تو سیکورٹی ہماری اہم ریگولیٹری ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا مالیاتی نظام محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد رہنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ پرزم پلس کو 14 ماہ میں مکمل کر کے متعارف کرایا گیا ہے۔

پرزم پلس محض ایک تکنیکی نظام نہیں بلکہ مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے اور نئے ڈیجیٹل دور کی جدتوں کی حمایت کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔

Comments

Comments are closed.