اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے خبردار کیا ہے کہ کلیدی میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری کے باوجود پاکستان اب بھی ڈھانچہ جاتی مسائل سے دوچار ہے، جن میں سب سے نمایاں ملک کی مستقل طور پر کم گھریلو بچت کی شرح ہے۔
انہوں نے یہ بات پیر کو کراچی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ معیشت میں بہتری کے باوجود، جس میں افراطِ زر کی شرح میں کمی اور نمو میں بہتری شامل ہے، کچھ دیرینہ ڈھانچہ جاتی مسائل برقرار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سب سے سنگین مسئلہ ہماری مستقل طور پر کم گھریلو بچت کی شرح ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستان اکنامک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی گھریلو بچت کی شرح جی ڈی پی کے تناسب سے صرف 7.4 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شرح جنوبی ایشیا کے اوسط 27 فیصد اور مشرقی ایشیائی معیشتوں کے 41 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
جمیل احمد نے کہا کہ کم بچت کی شرح کی وجہ سے پاکستان اپنی ترقیاتی ضروریات کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیکن اس انحصار کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی ہے، یہ بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحران، زرمبادلہ کی منڈیوں میں عدم استحکام اور مہنگائی کے دباؤ کا باعث بنا، جس نے وقت کے ساتھ ساتھ ہماری نمو کی رفتار کو کمزور کیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس بوم اینڈ برسٹ سائیکل سے بچنے کے لیے پاکستان کو زیادہ گھریلو بچت کو متحرک کرنا اور انہیں پیداوار پر مبنی سرمایہ کاری میں لگانا ہوگا۔
سرمایہ جاتی منڈی کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پچھلے دو دہائیوں میں حکومتِ پاکستان کی بانڈ مارکیٹ میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، جو مختلف میعاد کے فکسڈ ریٹ، فلوٹنگ ریٹ اور شریعت کے مطابق آپشنز فراہم کرتی ہے۔
تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت کی بانڈ مارکیٹ ابھی بھی زیادہ تر بینکاری نظام کے اندر محدود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں پرائمری ڈیلر سسٹم کی ازسرنو تشکیل بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار پورٹ فولیو سکیورٹیز اکاؤنٹ کا دائرہ کار مائیکروفنانس بینکوں، سی ڈی سی اور این سی سی سی پی ایل تک بڑھا دیا گیا ہے، جس سے ملک میں قریبا 100 ملین برانچ لیس اور موبائل بینکنگ صارفین کو سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کا موقع ملتا ہے۔
مزید برآں، اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو کسٹمرز ڈیجیٹل آن بورڈنگ فریم ورک کے ذریعے آسان بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات سرمایہ کاروں کی بنیاد کو متنوع بنانے، لیکویڈیٹی بڑھانے اور خود مختار حصے کو زیادہ مضبوط بنانے کا مقصد رکھتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کارپوریٹ قرضوں کی مارکیٹ تقریباً غیر موجود ہے۔ کارپوریٹ بانڈز کی بقایا مالیت جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے، جو ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
جمیل احمد نے کہا کہ غیر مالیاتی ادارے اور شعبے، بشمول مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر اور قابلِ تجدید توانائی، تقریبا مکمل طور پر بینک قرضوں پر انحصار کرتے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.