پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کے روز سرمایہ کاروں کے مثبت رجحانات دیکھنے میں آئے، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,704.79 پوائنٹس (1.16فیصد) کے اضافے سے 148,196.42 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
یہ تیزی پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، مضبوط کارپوریٹ نتائج، اور گردشی قرض سے متعلق اصلاحاتی خبروں کے باعث دیکھنے میں آئی۔
پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ریسرچ ہیڈ سمیع اللہ طارق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ مضبوط کارپوریٹ نتائج اور شرح سود میں کمی کی توقعات مارکیٹ کو سہارا دے رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کی صورتحال بھی مضبوط رہی، جہاں فنڈز نے فکسڈ انکم اور منی مارکیٹ سے سرمایہ نکال کر ایکوٹیز میں منتقل کیا۔
موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو سی اے اے 2 سے بڑھا کر سی اے اے 1 کرنے اور آؤٹ لک کو ’مستحکم‘ قرار دینے کے فیصلے نے بھی مارکیٹ کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔ یہ فیصلہ بیرونی ذخائر میں بہتری، مالی نظم و ضبط، اور آئی ایم ایف پروگرام میں پیش رفت کی بنیاد پر کیا گیا۔
دریں اثناء ٹاپ لائن سیکیورٹیز کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے گردشی قرض میں اصلاحات کی خبروں نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا۔
ان اقدامات میں ایل این جی کارگوز میں کمی، آر ایل این جی قیمتوں میں نظرثانی، اور فنڈز کی متحرک فراہمی جیسے عوامل شامل ہیں، جن میں ایس او ایز کے ڈیویڈنڈز اور بجلی کے واجبات سے حاصل آمدنی بھی شامل ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق، بی اے ایچ ایل، ایم ای بی ایل، لک، اور پی پی ایل جیسے بڑی مالیت کے شیئرز نے انڈیکس کی تیزی میں مجموعی طور پر 756 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
گزشتہ ہفتے کے ایس ای 100 انڈیکس 1,109 پوائنٹس یا 0.8 فیصد کے اضافے سے 146,492 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر پیر کو ایشیا میں شیئر مارکیٹس میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ امریکی شرح سود کی پالیسی کے حوالے سے ممکنہ اہم ہفتے کی توقع ہے جبکہ تیل کی قیمتیں معمولی کم ہو گئیں کیونکہ روسی سپلائی کے خطرات کچھ حد تک کم نظر آئے۔
عمومی مثبت رجحان کے باعث جاپان اور تائیوان کے انڈیکسز نے ریکارڈ سطح تک پہنچا لیا جبکہ چینی بلیو چِپ کمپنیوں کے اسٹاکس گزشتہ 10 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب روس کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ نظر آ رہے ہیں اور جنگ بندی کے بجائے اب یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ چاہتے ہیں، یہ بات انہوں نے جمعہ کو الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد کہی۔
ہفتے کا اہم اقتصادی واقعہ کینساس سٹی فیڈرل ریزرو کا 21 سے 23 اگست تک ہونے والا جیکسن ہول سمپوزیم ہوگا، جہاں چیئر جیروم پاول اقتصادی صورتحال اور مرکزی بینک کی پالیسی کے فریم ورک پر خطاب کریں گے۔
مارکیٹس کے اشارے کے مطابق 17 ستمبر کو فیڈ کے اجلاس میں شرح سود میں ایک چوتھائی فیصد کمی کا تقریباً 85 فیصد امکان ہے جبکہ دسمبر تک مزید نرمی کی توقع بھی شامل ہے۔
عالمی سطح پر کم قرض لینے کی لاگت کے امکان نے شیئر مارکیٹس کو تقویت دی اور جاپان کا نکئی انڈیکس 0.9 فیصد بڑھ کر ایک نئے ریکارڈ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک کے جاپان کے علاوہ سب سے وسیع انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ رہا جو گزشتہ ہفتے چار سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا تھا۔ چینی بلیو چِپ کمپنیوں کے اسٹاکس میں 1.0 فیصد اضافہ ہوا، جس سے اس سہ ماہی میں مجموعی منافع تقریباً 8 فیصد ہو گیا۔
یورواسٹاکس 50 فیوچرز اور ایف ٹی ایس ای فیوچرز 0.2 فیصد بڑھ گئے، جبکہ ڈی اے ایکس فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دریں اثناء پاکستانی روپے نے پیر کے روز نئے کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت انداز میں کیا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل ساتویں روز اس کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روز ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا اور کاروبار کے اختتام پر روپیہ 282.02 روپے پر بند ہوا، یعنی اس میں 4 پیسے کی بہتری ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم بھی بڑھی ہوئی سرگرمی کا عکاس رہا، جو پچھلے سیشن کے 473.60 ملین کے مقابلے میں بڑھ کر 610.31 ملین شیئرز تک جا پہنچا۔
شیئرز کی مالیت بھی بڑھ کر 39.17 ارب روپے ہو گئی، جو گزشتہ سیشن میں 32.88 ارب روپے تھی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے ورلڈ کال ٹیلی کام 40.72 ملین شیئرز کے ساتھ سرِفہرست رہی، اس کے بعد پرویز احمد کمپنی 29.75 ملین شیئرز اور الشہیر کارپوریشن 26.35 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔
پیر کو مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں 283 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہوا، 175 کے شیئرز کی قیمت میں کمی آئی جبکہ 29 کمپنیوں کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔


























Comments
Comments are closed.