آر ایل این جی کی زائد درآمدات،2025 میں تیل و گیس کی پیداوار 20 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
ٹاپ لائن ریسرچ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی تیل اور گیس کی پیداوار دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی۔ سالانہ بنیاد پر تیل کی پیداوار میں 12 فیصد اور گیس کی پیداوار میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس تاریخی کمی کی بنیادی وجہ حکومت کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت ضرورت سے زائد درآمد شدہ گیس (آر ایل این جی) کو ترجیح دی گئی، جو عالمی سپلائرز کے ساتھ طویل المدتی ”ٹیک اور پے“ معاہدوں کے تحت درآمد کی جا رہی ہے۔ ان معاہدوں کے باعث ملکی طلب میں شدید کمی کے باوجود حکومت کے پاس درآمد جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
اس پالیسی کے تحت حکومت نے مقامی تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے وابستہ کمپنیوں (ای اینڈ پی) کو مقامی ذخائر سے ہائیڈروکاربن کی پیداوار کم کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
ٹاپ لائن ریسرچ کی تجزیہ کار ثانیہ عرفان نے ایک تجزیاتی رپورٹ بعنوان ”اضافی آر ایل این جی نے مقامی تیل و گیس پیداوار کو متاثر کیا ہے“ میں کہا ہے کہ مقامی پیداوار میں اس کمی سے مالی سال 2025 کے دوران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر 1.2 ارب ڈالر سے زائد کا بوجھ پڑا ہے۔
حکومت کی جانب سے صنعتی صارفین کو گیس پر مبنی کیپٹیو پاور پلانٹس سے قومی پاور گرڈ پر منتقل کیے جانے کے بعد، آر ایل این جی ملک میں ضرورت سے زیادہ دستیاب ہو گئی (سرپلس میں تبدیل ہو گئی)۔
ثانیہ عرفان نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے کیپٹیو استعمال پر 791 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی شرح سے آف گرڈ لیوی بھی عائد کر دی (کل لاگت 4,291 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو)، جس کے باعث گیس سے بجلی پیدا کرنا قومی گرڈ سے زیادہ مہنگا ہو گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ حکومت مارچ 2026 میں قطر کے ساتھ آر ایل این جی کے معاہدے پر قیمتوں کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات کرے گی، جس سے مقامی تلاش و پیداوار (ای اینڈ پی) کمپنیوں کی سرگرمیوں میں بہتری کا امکان ہے۔“
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان میں تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 62,400 بیرل رہی، جبکہ مکوری ایسٹ، ناشپا، مرمزئی، پساکھی اور مردان خیل جیسے بڑے ذخائر میں پیداوار 3 سے 46 فیصد تک کم ہوئی۔
گیس کی یومیہ اوسط پیداوار 2,886 ملین مکعب فٹ رہی۔ قادر پور اور ناشپا جیسے بڑے فیلڈز میں سالانہ بنیادوں پر پیداوار میں بالترتیب 22 اور 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ سوئی کمپنیوں کی جانب سے گیس کی کٹوتی بتائی گئی۔
یہ کمی مالی سال 25 کی چوتھی سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں مزید شدید رہی، جب تیل کی پیداوار میں سہ ماہی بنیاد پر 8 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 15 فیصد کمی آئی، جبکہ گیس کی پیداوار میں 7 فیصد سہ ماہی اور 10 فیصد سالانہ کمی دیکھی گئی۔
ثانیہ عرفان نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ مالی سال 2025-26 میں بھی تیل و گیس کی پیداوار مزید گرے گی کیونکہ اس وقت پیداوار کا بہاؤ تقریباً 58,000 سے 60,000 بیرل یومیہ (بی او پی ڈی) اور 2,750 سے 2,850 ملین مکعب فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) کے درمیان ہے۔






















Comments
Comments are closed.