مویشی پالنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے لیکن حکومت نے اسے بری طرح نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے جانوروں اور ان کے گوشت کی برآمد کے لیے ایک جامع پالیسی کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ توانائی کے اخراجات کم کرنے اور باڑوں تک مناسب پانی کی فراہمی کے لیے مدد درکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ اور پنجاب کے کسانوں کو مناسب سہولیات کے ساتھ حوصلہ افزائی کی جائے تو یہ گوشت کی برآمد کے لحاظ سے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے تجربہ کار مویشی پال کسان اور میمن ڈیری کوآپریٹو فارمنگ سوسائٹی کے صدر، جمیل میمن نے کہا کہ سعودی عرب ہر سال حج کے دوران آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے 30 لاکھ سے زائد قربانی کے جانور، جن میں زیادہ تر دُنبے اور بھیڑ شامل ہوتی ہیں، خریدتا ہے کیونکہ پاکستان میں جانوروں کی قیمت 30 فیصد سے 40 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں جب خشک سالی ہوتی ہے اور کسان جانوروں کو چارہ فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتے، تو وہ زیادہ سے زیادہ دُنبے پیدا کرتے ہیں۔ ان دنبوں کا وزن 60 کلوگرام سے 200 کلوگرام تک ہوتا ہے اور یہ بیماریوں سے پاک ہوتے ہیں۔
پاکستان کو مسابقت کے قابل بنانے کے لیے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ گیس، بجلی اور ایندھن سمیت توانائی کے اخراجات کم کریں، باڑوں تک مناسب پانی کی فراہمی اور کنکشن یقینی بنائیں، تجاوزات ختم کریں اور جانور پالنے اور جانوروں و گوشت کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے کسانوں کے لیے مراعات کا اعلان کریں۔
پانی کے مسائل اور جائیداد کے حقوق
جمیل میمن نے کہا کہ مقامی مویشی پال کسان کئی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ سپر ہائی وے (کراچی سے حیدرآباد جانے والی M-9 موٹر وے) پر قائم باڑوں میں 2 لاکھ سے 2 لاکھ 50 ہزار بڑے جانور، جن میں گائیں اور بھینسیں شامل ہیں، سہراب گوٹھ سے کاٹھور، گڈاپ ٹاؤن اور ضلع ملیر تک پھیلے مختلف باڑوں میں موجود ہیں۔
تاہم وہاں کسی بھی باڑے کو میٹھے پانی کا کنکشن فراہم نہیں کیا گیا اور کسانوں کو زیر زمین پانی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ سپر ہائی وے کے ان علاقوں کی 30 سالہ لیز 1992 سے 2022 تک تھی، جو اب ختم ہو چکی ہے اور کسان جائیداد کے حقوق نہ ملنے پر پریشان ہیں۔
اسی طرح لانڈھی میں قائم بھینس/کیٹل کالونی 3,000 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں 4 لاکھ جانور موجود ہیں۔ اس کالونی کے آدھے حصے کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن سے پانی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ باقی آدھے حصے کے کسان زیر زمین پانی استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس کالونی کی 30 سالہ لیز 1965 سے 1995 تک تھی، جو ختم ہو چکی ہے، یعنی کسانوں کو تقریباً 30 سال سے جائیداد کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ اس وجہ سے کمرشل کسان اور نئے سرمایہ کار الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔
سندھ کی صلاحیت
اس حوالے سے سندھ لائیواسٹاک / اینیمل ہسبینڈری کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مظہر علی رند نے کہا کہ سندھ میں چھوٹے جانور اور ان کی نسلیں جیسے بکریاں، دُنبے، بھیڑ اور دیگر بڑی تعداد میں شہید بینظیر آباد، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں موجود ہیں، جبکہ بڑے جانور تھرپارکر، بدین، ٹھٹھہ اور دیگر اضلاع میں پائے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کچھ پالیسیاں نافذ کی جائیں تو پاکستان بیماریوں سے پاک اور صحت مند جانور پیدا کر کے برآمد کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، رحیم یار خان اور تھرپارکر جیسے علاقوں میں بیماریوں سے پاک زون قائم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
مویشی فارمنگ کی اقسام
مویشی ماہرین اور کمرشل کسانوں کا کہنا ہے کہ جانور پالنے کی تین اقسام ہیں: رینج فارمنگ، انٹینسیو فارمنگ، اور سیمی انٹینسیو فارمنگ۔
رینج اینیمل فارمنگ میں جانوروں کو کھلی زمین جیسے چراگاہوں اور مختلف میدانوں میں پالا جاتا ہے۔ انٹینسیو فارمنگ میں جانوروں کو مناسب شیڈ یا باڑوں میں محدود جگہ پر پالا جاتا ہے، جبکہ سیمی انٹینسیو فارمنگ میں جانوروں کو چند سو میٹر کھلی زمین میں چرایا جاتا ہے اور انہیں دھاتی باڑ سے گھیرا بنا کر شکاری جانوروں سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔
























Comments
Comments are closed.