آڈیٹر جنرل نے ایچ ای سی اور منسلک جامعات کے آپریشنز میں 5.29 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کردی
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 24-2023 کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور اس سے منسلک جامعات کے آپریشنز میں 5.29 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔
آڈٹ رپورٹ 25-2024 کے مطابق سب سے بڑی نشاندہی یہ ہے کہ ایچ ای سی نے 4.852 ارب روپے وفاقی حکومت کے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) میں جمع کرانے کے بجائے اپنے ذاتی آمدنی کے اکاؤنٹ میں رکھے۔
یہ اقدام پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی دفعہ 37(1) کی خلاف ورزی ہے، جو واضح کرتا ہے کہ قانونی اختیارات کے تحت خودمختار عوامی اداروں کی جانب سے جمع کی جانے والی آمدنی کو ٹی ایس اے کے ذریعے ہی منتقل کیا جانا چاہیے۔
جنوری 2023 میں وزارت خزانہ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود، جس میں ایچ ای سی کو ٹی ایس اے نظام کے تحت لایا گیا تھا، کمیشن نے ان فنڈز کو خود ہی سنبھالنا اور استعمال کرنا جاری رکھا۔
مالی سال 24-2023 کے دوران وصول کی جانے والی رقوم میں 1.13 ارب روپے تعلیمی اسناد کی تصدیق اور مساوات کی فیس، 2.43 ارب روپے پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک (پی ای آر این) کی وصولیاں، 34.3 کروڑ روپے ڈیجیٹل لائبریری منصوبے سے، 40.9 کروڑ روپے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل سے، اور 16.3 کروڑ روپے سود کی آمدنی شامل ہیں۔
آڈٹ حکام نے ایچ ای سی کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ یہ فنڈز گرانٹ اِن ایڈ میں اضافے کے لیے ضروری تھے، اور واضح کیا کہ قانونی تقاضوں پر عمل درآمد اندرونی مالی ضروریات کی بنیاد پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) نے ایچ ای سی کو ہدایت دی کہ وہ وزارت خزانہ سے ٹی ایس اے کے حوالے سے باضابطہ وضاحت حاصل کرے اور تمام متعلقہ خط و کتابت آڈیٹرز سے شیئر کرے۔
ٹی ایس اے کے مسئلے کے علاوہ، آڈٹ میں 35.96 کروڑ روپے کی غیر مجاز رقوم کی ادائیگیوں کا انکشاف ہوا جو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے تحت سرکاری جامعات کو دی گئیں، حالانکہ ان کی منظوری پلاننگ کمیشن یا اس کی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (ڈی ڈی ڈبلیو پی) سے نہیں لی گئی تھی۔
مثال کے طور پر، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کو ’’اکیڈمک اور تحقیقی سرگرمیوں کے استحکام‘‘ منصوبے کے تحت 5.87 کروڑ روپے اضافی دیے گئے، جبکہ ہزارہ یونیورسٹی کو اس کی منظور شدہ رقم سے 2.95 کروڑ روپے زیادہ ادا کیے گئے۔
دیگر جامعات کو بھی ایچ ای سی کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت منظور شدہ پی سی - ون کے بغیر اضافی ادائیگیاں کی گئیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ عمل پلاننگ کمیشن کے طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط کو متاثر کرتا ہے اور فنڈز کے استعمال اور نگرانی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
رپورٹ میں خریداری سے متعلق خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں، جن میں ایچ ای سی نے ’’اسمارٹ یونیورسٹیز‘‘ منصوبے کے تحت 3.50 کروڑ روپے آئی ٹی آلات پر خرچ کیے، لیکن پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کے قاعدہ 12(2) کے تحت لازمی اوپن کمپیٹیٹو بڈنگ کے عمل کی پیروی نہیں کی۔
لیپ ٹاپ، سرورز اور دیگر آلات براہِ راست کنٹریکٹنگ یا محدود ٹینڈرنگ کے ذریعے حاصل کیے گئے، حالانکہ یہ مالی حد سے تجاوز کر چکے تھے جس پر قومی سطح پر اشتہار دینا لازمی تھا۔ مزید برآں، بڈ ایویلیوایشنز، تقابلی بیانات، اور اشتہار کے ریکارڈ جیسی اہم دستاویزات موجود نہیں تھیں، جس سے شفافیت کے فقدان اور خریداری میں جانبداری کے خدشات پیدا ہوئے۔
ایک اور معاملے میں، ایچ ای سی نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی تعمیر میں تاخیر کرنے والے ٹھیکیدار سے 75.69 لاکھ روپے کے جرمانے کی وصولی میں ناکام رہا۔ معاہدے میں تاخیر پر یومیہ ایک فیصد جرمانے کی شق شامل تھی، مگر کمیشن نے نہ تو جرمانہ عائد کیا اور نہ ہی باضابطہ نوٹس جاری کیا، جس سے قومی خزانے کو براہِ راست نقصان ہوا۔
آڈیٹرز نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایچ ای سی نے 40.55 لاکھ روپے کے غیر مجاز غیر ملکی دوروں پر خرچ کیے، جن کے لیے مجاز اتھارٹی سے لازمی منظوری نہیں لی گئی۔ یہ اخراجات ایچ ای سی کے افسران کے بیرونِ ملک دوروں سے متعلق تھے اور غیر ملکی ڈپوٹیشن کے داخلی قواعد کی خلاف ورزی تھے۔
اسی طرح، ایچ ای سی نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور ’’اسٹرینتھننگ آف ایچ ای سی‘‘ منصوبوں کے تحت 3.68 کروڑ روپے دفتر کی تزئین و آرائش پر خرچ کیے، بغیر اس کے کہ ترقیاتی منصوبے کے لیے مطلوبہ پی سی- ون تیار یا منظور کرایا جائے۔
مجموعی طور پر یہ آڈٹ نتائج ایچ ای سی اور اس سے منسلک اداروں کی جانب سے مالی، خریداری اور قانونی ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کو ظاہر کرتے ہیں، جو پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں گورننس اور نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.