پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) آئندہ ماہ نائیجیریا کے بونی لائٹ خام تیل کی پہلی کھیپ ویٹول سے درآمد کرے گی۔ اس پیش رفت سے واقف دو ذرائع کے مطابق ایشیائی ریفائنریز مشرقِ وسطیٰ کے مہنگے تیل کی جگہ سستے متبادل کی جانب راغب ہو رہی ہیں اور پی آر ایل کی یہ خریداری اسی رجحان کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق 5 لاکھ بیرل پر مشتمل خام تیل کی یہ کھیپ رواں ماہ کے آخر میں روانہ ہو کر ستمبر کے اختتام تک کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔ تاحال اس سودے کی قیمت منظرِ عام پر نہیں آئی، اور دونوں ادارے — ویٹول اور پی آر ایل — نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
یہ سودا پاکستان کی جانب سے امریکی خام تیل کی پہلی درآمدی ڈیل کے بعد سامنے آیا ہے جو سینرجیکو نے ویٹول سے ہی کی تھی اور وہ اکتوبر میں پہنچنے والی ہے۔
پاکستان کی زیادہ تر خام تیل کی ضروریات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پوری ہوتی ہیں۔
تاہم حالیہ مہینوں میں ملکی ریفائنریوں نے دیگر ذرائع جیسے امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ اور قازق سی پی سی بلینڈ کی طرف رجوع کیا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے سپلائرز کے نرخ زیادہ ہو چکے ہیں۔
ڈیٹا اینالٹکس فرم Kpler کے مطابق پاکستان نے 2014 میں نائیجیرین یوہو (Yoho) خام تیل درآمد کیا تھا، تاہم بونی لائٹ خام تیل کی یہ پہلی معروف خریداری ہے، جو اپنی اعلیٰ معیار کی پٹرول اور ڈیزل پیداوار کے باعث عالمی منڈی میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ تیل پاکستان کی سب سے بڑی درآمدی شے ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات 11.3 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو ملک کے کل درآمدی بل کا تقریباً 20 فیصد ہے۔






















Comments
Comments are closed.