وانا بازار میں دھماکہ: 3 افراد جاں بحق، 14 زخمی
- پولیس کے مطابق دھماکے کا ہدف پولیس کی گاڑی تھی، تاہم جاں بحق ہونے والے تینوں افراد عام شہری تھے۔
آج نیوز نے رپورٹ کیا کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا رستم بازار میں جمعرات کے روز پولیس وین کے معمول کے گشت کے دوران ایک زور دار دھماکے میں تین افراد جاں بحق جبکہ 14 زخمی ہو گئے۔
پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ یہ حملے بالخصوص سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسے کہ پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ رجحان اس وقت تیز ہوا جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے 2022 میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ توڑ دیا۔
پولیس کے مطابق دھماکے کا ہدف پولیس کی گاڑی تھی، تاہم جاں بحق ہونے والوں میں تین راہگیر شامل ہیں جبکہ 14 افراد، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال وانا منتقل کر دیا گیا، جہاں طبی عملہ ان کا علاج کر رہا ہے۔ دھماکے کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکے میں ریموٹ کنٹرول یا دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) استعمال کیا گیا، تاہم مکمل تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔
گزشتہ شب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اطلاع دی کہ مستونگ ضلع میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد گروہ ”فتنہ الہندستان“ کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں پاک فوج کے تین اہلکار، جن میں ایک میجر بھی شامل تھے، شہید ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ 5 اور 6 اگست کی درمیانی شب کیا گیا۔ شہید ہونے والوں میں میجر محمد رضوان طاہر (31 سال، ضلع نارووال)، نائیک ابنِ امین (37 سال، ضلع صوابی) اور لانس نائیک محمد یونس (33 سال، ضلع کرک) شامل ہیں۔





















Comments
Comments are closed.