BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ درآمدی دواؤں (فارماسیوٹیکلز) پر آئندہ عائد کی جانے والی ٹیرف ابتدائی طور پر کم شرح سے شروع ہوگی، لیکن ایک سے ڈیڑھ سال کے اندر اسے 150 فیصد اور پھر بالآخر 250 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ اقدام اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ دواؤں کی پیداوار ہمارے ملک میں ہو۔

ٹرمپ نے یہ بات سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی سیمی کنڈکٹرز پر بھی نئی درآمدی ڈیوٹیز جلد متعارف کرائی جائیں گی۔

اسی انٹرویو میں انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ وہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل خریدنے پر شدید نالاں ہیں اور اس پر آئندہ 24 گھنٹوں میں بہت نمایاں ٹیرف لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اپریل میں ٹرمپ نے تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد درآمدی ٹیکس نافذ کیا تھا، تاہم کچھ مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا، جنہیں بعد میں الگ سے نشانہ بنایا جانا تھا۔

یہ سیکٹر مخصوص ٹیرف عمومی طور پر ان حکومتی تحقیقات کے بعد سامنے آتے ہیں، جن میں قومی سلامتی سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

سیمی کنڈکٹرز اور فارماسیوٹیکلز پر ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی تحقیقاتی عمل شروع کر چکی ہے اور اب ان رپورٹس کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں نئی ڈیوٹیوں کا نفاذ متوقع ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی درآمدی اسٹیل اور ایلومینیم پر 50 فیصد تک بھاری ٹیرف عائد کر چکی ہے جبکہ گاڑیوں اور اسپیئر پارٹس پر نسبتاً کم ٹیرف نافذ کیا گیا تھا۔

Comments

Comments are closed.