حکومت کا کہنا ہے کہ جولائی کے ریونیو ہدف کے حصول کے بعد، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سال بھر کے ہدف کو حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
یہ پیشرفت وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں سامنے آئی، جس میں اسلام آباد میں ایف بی آر سے متعلق امور پر ہونے والے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کا حوالہ دیا گیا۔
ایف بی آر نے جولائی 2025 میں مقررہ ہدف 748 ارب روپے کے مقابلے میں عارضی طور پر 754 ارب روپے سے زائد محصولات اکٹھے کیے، جو ہدف کا 100.9 فیصد حصول ظاہر کرتا ہے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے ایف بی آر میں کی جانے والی اصلاحات کا نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور میں ذاتی طور پر اصلاحاتی اقدامات کی مکمل حمایت اور تحفظ یقینی بنائینگے۔
وزیرِ اعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ اصلاحات کے مستقل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے سرخ فیتے اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی میں بہتری کو برقرار رکھنے کے لیے وفاق اور صوبے باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں پہلے سے عائد ٹیکسوں کا مؤثر اور مربوط نفاذ ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں بہتری کے لیے متعلقہ وفاقی اداروں اور صوبوں سے مشاورت کے ساتھ حکمتِ عملی تیار کی جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایف بی آر اور کسٹمز کلیئرنس کے محکمے اپنی صلاحیت میں اضافہ کریں اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ساتھ مل کر عوام میں اصلاح شدہ نظام کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایت پر انکم ٹیکس ریٹرن فارم آن لائن اردو میں تیار کیا گیا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تقریباً 84 فیصد فائلرز اس سادہ اور اردو پر مبنی آن لائن انکم ٹیکس فارم سے مستفید ہوں گے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر میں کسٹمز کلیئرنس کے لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام کا عمل ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سینٹرلائزڈ اسیسمنٹ یونٹ (سی اے یو) اور فیس لیس کسٹمز سسٹم کے مکمل نفاذ سے کسٹمز کلیئرنس کا نظام مزید مؤثر اور شفاف ہو جائے گا۔






















Comments
Comments are closed.