BR100 Increased By (0.36%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.37%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.49 (0.87%)
BIPL 24.96 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 30.35 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 13.12 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 15.90 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
DGKC 192.45 Increased By ▲ 0.09 (0.05%)
FABL 94.14 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
FCCL 52.79 Increased By ▲ 0.41 (0.78%)
FFL 14.72 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 19.56 Decreased By ▼ -0.44 (-2.2%)
HBL 306.10 Increased By ▲ 3.95 (1.31%)
HUBC 201.42 Decreased By ▼ -1.29 (-0.64%)
HUMNL 10.16 Increased By ▲ 0.05 (0.49%)
KEL 6.09 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.46 Decreased By ▼ -0.89 (-3.25%)
MLCF 93.16 Increased By ▲ 0.41 (0.44%)
OGDC 316.73 Decreased By ▼ -1.03 (-0.32%)
PAEL 35.63 Increased By ▲ 0.13 (0.37%)
PIBTL 14.68 Increased By ▲ 0.11 (0.75%)
PIOC 243.21 Increased By ▲ 0.17 (0.07%)
PPL 226.91 Decreased By ▼ -0.88 (-0.39%)
PRL 93.02 Increased By ▲ 0.45 (0.49%)
SNGP 91.84 Decreased By ▼ -0.08 (-0.09%)
SSGC 23.81 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 7.80 Increased By ▲ 0.02 (0.26%)
TPLP 12.97 Increased By ▲ 0.30 (2.37%)
TRG 56.56 Decreased By ▼ -1.24 (-2.15%)
UNITY 8.07 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.01 Decreased By ▼ -0.01 (-0.98%)

ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو نوٹس جاری کرنے کے فوراً بعد، اسی دن بینکوں سے ان کی رقوم کی ریکوری کا اقدام قانونی تقاضوں کے برخلاف اور قابل تشویش ہے۔

ماہرین کے مطابق محکمہ قانوناً اس بات کا مجاز نہیں کہ سیکشن 140 کے تحت نوٹس جاری کرنے کے اسی دن ٹیکس دہندہ کے بینک یا کسی تیسرے فریق سے فوری طور پر ریکوری کی جائے، خصوصاً ان معاملات میں جہاں یہ نوٹس کمشنر (اپیلز) ان لینڈ ریونیو کے فیصلے کے بعد جاری کیا گیا ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک عمومی رجحان بنتا جا رہا ہے کہ محکمہ پہلے ٹیکس گوشواروں میں ترمیم کر کے اربوں روپے کے ٹیکس مطالبات عائد کرتا ہے اور پھر فیصلہ ایف بی آر کے ویب پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اندر سیکشن 140 کے تحت نوٹس جاری کر کے ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹس سے رقم وصولی کرلیتا ہے، بعض صورتوں میں یہ کارروائیاں رات دیر گئے بھی عمل میں لائی جاتی ہیں۔

محکمہ جاتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ انکم ٹیکس ریکوری رولز 2002 کے قاعدہ 210c(3) کے تحت نوٹس موصول ہونے والے دن ہی ادائیگی لازم ہوتی ہے، جسے وہ فوری کارروائی کے لیے جواز قرار دیتے ہیں، تاہم ٹیکس ماہرین اس تشریح سے اتفاق نہیں کرتے اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ قانون میں دی گئی ہدایات کا بنیادی مقصد ٹیکس دہندہ کو شفاف، مناسب اور مؤثر نوٹس فراہم کرنا ہے۔

ٹیکس ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ سیکشن 140(1) واضح طور پر کمشنر کو پابند کرتا ہے کہ وہ نوٹس میں ادائیگی کے لیے کوئی مخصوص آئندہ تاریخ مقرر کرے۔ لیکن بیشتر کیسز میں اپیل کے حکم کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ریکوری شروع کر دی جاتی ہے جس سے ٹیکس دہندگان کو نہ تو نوٹس پر عملدرآمد کرنے کا مناسب موقع ملتا ہے اور نہ ہی مطالبے کو چیلنج کرنے کی سہولت میسر آتی ہے، یہ طرز عمل نہ صرف آرڈیننس میں موجود طریقہ کار کی حفاظتی شقوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ ٹیکس دہندگان کے آئینی حقوق کی بھی نفی کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکوری نوٹس جاری کرنے اور بینک اکاؤنٹس کو فوری منسلک کرنے کا عمل ”منصفانہ نوٹس“ اور ”طریقہ کار کی شفافیت“ جیسے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ طرزِ عمل آرڈیننس میں درج حفاظتی شقوں کی نفی اور ٹیکس دہندگان کے آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ماہرین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اپیل کے فیصلے کے اسی دن ریکوری نوٹس جاری کرنا اور چند منٹوں یا گھنٹوں کے اندر بینک اکاؤنٹس منسلک کر دینا، منصفانہ نوٹس اور طریقہ کار کے تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس کی وصولی کوئی زبردستی چھیننے کا عمل نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ جبری اقدامات بھی قانون کے دائرے میں اور طریقہ کار کی مکمل پاسداری کے ساتھ کیے جانے چاہئیں۔ ٹیکس حکام سزا دینے والے ادارے نہیں بلکہ ایسے نظم و نسق کے علمبردار ہیں جن کا کام شفافیت، انصاف اور قانون کی عملداری کے ذریعے رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو فروغ دینا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.