پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ہفتہ کے روز حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے سے روکنے کے لیے ویزا عمل میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈال رہی ہے، جو اس وقت جیل میں قید اپنے والد سے ملاقات کے لیے آنا چاہتے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے — سلیمان اور قاسم — پاکستانی شہری ہیں اور نیشنل آئیڈنٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز (نائی کاپ) رکھتے ہیں، اس لیے انہیں قانونی طور پر ملک میں داخلے کی اجازت ہونی چاہیے۔
پارٹی کا دعویٰ ہے کہ دونوں بیٹوں کے ویزا درخواستیں لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں جمع کرائی گئی تھیں لیکن حکام کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
شیخ وقاص اکرم کے مطابق دونوں درخواستوں کو ٹریکنگ نمبرز الاٹ کیے گئے، مگر حکام نے کہا کہ درخواستوں کو اسلام آباد اور وزارت داخلہ سے کلیئرنس درکار ہے، اور بعد ازاں کوئی جواب نہ آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ کا مؤقف ہے کہ ویزا جاری کرنے کا اختیار وزارت خارجہ اور سفیر کے پاس ہے، جو کہ ان سرکاری بیانات سے متصادم ہے جن میں کہا گیا کہ کوئی درخواست موصول ہی نہیں ہوئی۔
پی ٹی آئی نے دونوں بیٹوں کے نائی کاپ کی تفصیلات بھی جاری کیں۔ قاسم کا نائی کاپ 2021 میں ختم ہو چکا ہے اور تجدید کے مراحل میں ہے، جبکہ سلیمان کا شناختی کارڈ 2030 تک مؤثر ہے۔
پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان کے بیٹوں کے داخلے میں سہولت فراہم کرے، بجائے اس کے کہ سیاسی بنیادوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔
علاوہ ازیں، پی ٹی آئی نے پارٹی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور 5 اگست کو ہونے والے ملک گیر احتجاج سے قبل موٹر ویز کی بندش کی بھی مذمت کی۔
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایرانی صدر کے دورے کے پیش نظر لگائی گئی ہیں۔
پی ٹی آئی نے عدلیہ کی آزادی، میڈیا کی آزادی اور اپنے رہنما کی رہائی کے مطالبے پر بڑے پیمانے پر مظاہروں کی کال دی ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی قید سیاسی انتقام پر مبنی اور غیر آئینی ہے۔
یاد رہے کہ سابق کرکٹ اسٹار اور 2018 سے 2022 تک وزیراعظم رہنے والے عمران خان کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.