BR100 Increased By (0.79%)
BR30 Increased By (0.95%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.49%)
BAFL 58.56 Increased By ▲ 0.12 (0.21%)
BIPL 25.17 Decreased By ▼ -0.03 (-0.12%)
BOP 34.22 Increased By ▲ 0.23 (0.68%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 21.00 Increased By ▲ 0.16 (0.77%)
DGKC 195.50 Increased By ▲ 2.53 (1.31%)
FABL 90.00 Increased By ▲ 0.21 (0.23%)
FCCL 53.40 Increased By ▲ 0.57 (1.08%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.09 Increased By ▲ 0.12 (0.63%)
HBL 287.25 Increased By ▲ 1.75 (0.61%)
HUBC 215.20 Increased By ▲ 0.82 (0.38%)
HUMNL 10.89 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
LOTCHEM 28.11 Increased By ▲ 0.22 (0.79%)
MLCF 87.42 Increased By ▲ 0.91 (1.05%)
OGDC 322.30 Increased By ▲ 2.34 (0.73%)
PAEL 39.71 Increased By ▲ 0.29 (0.74%)
PIBTL 16.85 Increased By ▲ 0.18 (1.08%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 229.13 Increased By ▲ 0.95 (0.42%)
PRL 34.85 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 99.36 Increased By ▲ 0.18 (0.18%)
SSGC 26.89 Increased By ▲ 0.29 (1.09%)
TELE 8.49 Increased By ▲ 0.21 (2.54%)
TPLP 8.40 Increased By ▲ 0.18 (2.19%)
TRG 70.19 Increased By ▲ 0.48 (0.69%)
UNITY 11.80 Increased By ▲ 0.13 (1.11%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) نے جمعرات کو 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے 6 ماہ کے دوران ریکارڈ مشترکہ منافع قبل از ٹیکس 75.3 ارب روپے کا اعلان کیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 30 فیصد زائد ہے۔

بینک کا بعد از ٹیکس منافع 19 فیصد بڑھ کر 34.4 ارب روپے ہوگیا حالانکہ بینکوں پر ٹیکس کی شرح 4 فیصد اضافے کی وجہ سے مزید بوجھ پڑا۔ پہلے نصف سال 2025 کے لیے فی حصص منافع (ای پی ایس) گزشتہ سال کے پہلے نصف سال کے 20.18 روپے سے بڑھ کر 23.44 روپے ہوگیا ہے۔ نتائج کے ساتھ بینک نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والی دوسرے سہ ماہی کے لیے عبوری نقد منافع 4.50 روپے فی حصص یعنی 45 فیصد کا اعلان کیا جو پہلے سے ادا کیے گئے عبوری نقد منافع 4.50 روپے فی حصص (45 فیصد) کے علاوہ ہے۔

حبیب بینک لمیٹڈ کی بیلنس شیٹ 26 فیصد اضافے کے ساتھ 7.6 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔ دسمبر 2024 کے مقابلے میں مجموعی ڈپازٹس میں 19 فیصد اضافہ ہوا جو 5.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے، یوں ایچ بی ایل پاکستان کا پہلا بینک بن گیا جس کے ڈپازٹس نے 5 کھرب روپے کا سنگِ میل عبور کیا۔ مقامی ڈپازٹس میں 22 فیصد اضافہ ہوا جو 4.4 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ کرنٹ اکاؤنٹس کے فروغ پر توجہ کے باعث کرنٹ اکاؤنٹس میں 440 ارب روپے کا اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹس کا تناسب 40 فیصد سے تجاوز کر گیا، جبکہ کاسا کا تناسب 89 فیصد برقرار رہا۔

ایچ بی ایل کا قرضوں کا مجموعی حجم تقریباً 2.0 کھرب روپے تک پہنچ گیا کیونکہ رواں سہ ماہی کے دوران مقامی قرضوں میں بحالی دیکھنے میں آئی۔ بینک کا نمایاں کنزیومر بینکنگ کا شعبہ مستحکم مگر مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رہا اور اس کا حجم 156 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

سال 2025 کی پہلی ششماہی میں مسلسل مانیٹری نرمی کے باوجود ایچ بی ایل کی خالص سودی آمدن 12 فیصد اضافے کے ساتھ 138 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اوسط بیلنس شیٹ میں 425 ارب روپے کے اضافے اور بہتر کرنٹ اکاؤنٹ مکس کے باعث ڈپازٹ لاگت میں کمی سے ممکن ہوا جس سے بینک اپنے مارجن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ نان فنڈ آمدن بھی 12 فیصد بڑھ کر 44 ارب روپے ہو گئی، جس کی بنیاد شاندار ٹریژری کارکردگی اور بنکاشورنس، کنزیومر فنانس اور انویسٹمنٹ بینکنگ کے شعبوں میں دو ہندسوں کی ترقی تھی۔ یوں ایچ بی ایل کی مجموعی آمدن بڑھ کر 182 ارب روپے ہو گئی۔

بینک بھر میں فعال لاگت میں کمی کی حکمتِ عملیوں کے باعث سالانہ اخراجات میں اضافہ محدود ہو کر 8 فیصد تک رہا جس کے نتیجے میں لاگت و آمدن کا تناسب کم ہو کر میں 55.2 فیصد پر آ گیا — یعنی 200 بیسس پوائنٹس سے زائد کی بہتری۔ سہ ماہی کے دوران مؤثر ریکوری کی کارکردگی کے باعث نان پرفارمنگ لونز میں کمی آئی؛ جبکہ ایڈوانسز میں اضافے کے ساتھ نان پرفارمنگ لونز کا تناسب گھٹ کر 5.0 فیصد رہ گیا۔ مخصوص کوریج 90 فیصد تک بہتر ہوئی، جبکہ مجموعی کوریج 100 فیصد سے کہیں زیادہ رہی۔ ٹئیر 1 کیپیٹل ایڈی کویسی ریشو14.16 فیصد اور مجموعی CAR 17.91 فیصد رہا جو مقررہ ریگولیٹری تقاضوں سے کہیں زیادہ ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.