صوبائی محتسب نے کام کی جگہ ہراسانی کے الزام میں سید مونس علوی کو کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔
صوبائی محتسب اعلیٰ جسٹس (ر) شاہ نواز طارق نے مونس علوی پر 25 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
صوبائی محتسب کے جاری کردہ حکم کے مطابق، مونس عبداللہ علوی کو ایکٹ 2010 کی شق 4(4)(ii)(c) کے تحت سزا دی گئی ہے اور انہیں فوری طور پر سروس سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
سندھ حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ کام کی جگہ ایک خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام کے ثابت ہونے کے بعد کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک ماہ کے اندر صوبائی محتسب کے دفتر کے رجسٹرار کے ذریعے شکایت کنندہ کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے صوبائی محتسب کے فیصلے کو اپنے لیے انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پیشہ ورانہ تعلقات میں دیانتداری اور وقار کے اصولوں کو مقدم رکھتے ہیں اور ہر فرد کے لیے محفوظ اور شمولیتی کام کی جگہوں کے قیام پر یقین رکھتے ہیں۔
جسٹس (ر) شاہ نواز طارق نے کہا کہ سی ای او نے شکایت کنندہ کو ہراساں کرنے کے ساتھ ذہنی اذیت بھی دی۔ انہوں نے حکم دیا کہ اگر مونس علوی جرمانہ ادا کرنے میں ناکام رہے تو ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے، نیز ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کیا جائے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری وضاحتی پیغام میں مونس علوی نے کہا کہ حالیہ فیصلہ ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ قانونی عمل اور اس کے اداروں کا احترام کرتے ہیں، مگر اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ فیصلے کے نتائج ان کے تجربے اور حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سفر نہ صرف پیشہ ورانہ بلکہ ذاتی طور پر بھی بہت تکلیف دہ رہا ہے۔ وہ اس فیصلے کا اپنے قانونی مشیروں کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی اپیل کے قانونی حق کا استعمال کریں گے۔
مونس علوی نے کہا کہ ہر متاثرہ فرد کو سنا جانا چاہیے اور وہ سچائی کو ہر جائز قانونی طریقے سے سامنے لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
سی ای او کے الیکٹرک نے اپنے جاننے والوں، ساتھ کام کرنے والوں اور انصاف کے عمل پر یقین رکھنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری عدل و انصاف اور کام کی جگہ پر وقار کے اصولوں سے وابستگی غیرمتزلزل ہے۔
مونس علوی کو جون 2018 میں کے الیکٹرک کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی قیادت میں کے الیکٹرک نے توانائی شعبے میں متعدد سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کیے، جن میں 900 میگاواٹ کی آر ایل این جی پر چلنے والی پاور پلانٹ بھی شامل ہے۔
وہ 2008 میں کے الیکٹرک میں شامل ہوئے اور کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر کے ساتھ ساتھ کمپنی سیکرٹری اور ہیڈ آف ٹریژری کے عہدے بھی سنبھال چکے ہیں۔
علوی کے پاس مالی منصوبہ بندی اور سرمایہ کی تعمیر نو میں 30 سال سے زائد متنوع تجربہ ہے۔ وہ انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے فیلو ممبر ہیں ۔






















Comments
Comments are closed.