وفاقی دارالحکومت میں فوڈ سیفٹی نافذ کرنے کے نظام پر نئی توجہ مرکوز ہونے کے بعد اسلام آباد فوڈ اتھارٹی (آئی ایف اے) نے شہر کے نواحی علاقے ترنول میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی گدھے کے گوشت کے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا۔
ہفتہ کی علی الصبح کیے گئے کریک ڈاؤن کے دوران 50 سے زائد زندہ گدھے اور تقریباً ایک ٹن ذبح شدہ گوشت برآمد کیا گیا، جو مبینہ طور پر انسانوں کے استعمال کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہرہ صدیق کی سربراہی میں کی گئی اس کارروائی میں عارضی حالات میں قائم ایک خفیہ ذبح خانہ بے نقاب ہوا۔ موقع پر موجود ایک غیر ملکی شہری کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے قانون نافذ کرنے والے ادارے تفتیش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صدیق نے آپریشن کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ یہ فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور عوامی صحت کے لیے فوری خطرہ ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ غیر قانونی ذبح خانہ طویل عرصے سے بغیر پکڑے جانے کے کام کر رہا تھا، جس نے ریگولیٹری اداروں کی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام کو شبہ ہے کہ ضبط کیا گیا گوشت مخصوص گروہوں، بشمول اسلام آباد میں مقیم غیر ملکی کمیونٹیز، کو فروخت کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم یہ دعوے ابھی تفتیش کے مراحل میں ہیں۔
آئی ایف اے نے تصدیق کی ہے کہ برآمد شدہ تمام گوشت کو حیاتیاتی تحفظ کے اصولوں کے تحت تلف کر دیا گیا ہے اور اس ”منظم اور مربوط آپریشن“ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
آئی ایف اے نے شہر بھر کے تمام قصابوں اور فوڈ اسٹیبلشمنٹس سے اپیل کی ہے کہ جاری تحقیقات میں حکام سے مکمل تعاون کریں۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کو جنم دیا ہے اور شہریوں نے گوشت کی سپلائی چین پر سخت نگرانی اور ریگولیٹری چیک کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین صحت نے غیر معیاری گوشت سے زونوٹک بیماریوں کے پھیلنے اور صارفین کی سلامتی کے خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔
یہ پیش رفت ملک بھر میں غذائی ملاوٹ کے بڑھتے ہوئے خدشات کے دوران سامنے آئی ہے اور ممکنہ طور پر اسلام آباد سمیت شہری مراکز میں گوشت کی منڈیوں کی جامع جانچ پڑتال اور اصلاحات کے مطالبات کو تیز کر سکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.