بنگلہ دیش فضائیہ کا تربیتی لڑاکا طیارہ ایک کالج اور اسکول کیمپس پر گرکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 25 بچے شامل تھے، جب کہ 88 افراد اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
فوج کے مطابق F-7 BGI طیارہ پیر کو دوپہر 1 بجکر 6 منٹ پر دارالحکومت ڈھاکہ کے کرمیٹولا ایئربیس سے ایک معمول کے تربیتی مشن پر روانہ ہوا تھا، لیکن روانگی کے فوراً بعد حادثے کا شکار ہو گیا۔ فوجی حکام نے بتایا کہ طیارے کو ایک تکنیکی خرابی کا سامنا تھا۔
حادثے کے فوراً بعد فضا میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے اور بچے خوف زدہ ہو کر ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے تھے۔ کچھ والدین بے بسی سے اپنے بچوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے تھے۔
متاثرہ عمارت کی دیواریں شعلوں کی لپیٹ میں آگئیں اور طیارے کے پرخچے لوہے کی گرِلوں کو چیرتے ہوئے اندر تک جا پہنچے۔
مناظر میں دیکھا گیا کہ امدادی کارکن جھلس کر سیاہ ہو جانے والی عمارتوں میں ملبہ تلاش کررہے تھے، جب کہ پریشان حال اہلِ خانہ جائے حادثہ کے گرد جمع تھے۔
چیف ایڈوائزر ہیلتھ کے خصوصی معاون سیدالرّحمن نے صحافیوں کو بتایا کہ حادثے میں 27 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ جھلسنے کے باعث 88 افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں 25 بچے، ایک استاد اور طیارے کا پائلٹ شامل ہے۔
حکومت نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور تمام عبادت گاہوں میں خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔
جینز انفارمیشن گروپ کے مطابق F-7 BGI چین کے چنگڈو J-7/F-7 طیاروں کے سلسلے کا آخری اور سب سے جدید ماڈل ہے۔
بنگلہ دیش نے 2011 میں 16 طیاروں کے لیے معاہدہ کیا تھا اور ان کی ترسیل 2013 تک مکمل ہوگئی تھی۔






















Comments
Comments are closed.