BR100 Increased By (0.59%)
BR30 Increased By (0.86%)
KSE100 Increased By (0.42%)
KSE30 Increased By (0.42%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.38 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.50 Increased By ▲ 2.53 (1.31%)
FABL 89.93 Increased By ▲ 0.14 (0.16%)
FCCL 53.49 Increased By ▲ 0.66 (1.25%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.82 Increased By ▲ 0.85 (4.48%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.02 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.71 Decreased By ▼ -0.18 (-0.65%)
MLCF 87.00 Increased By ▲ 0.49 (0.57%)
OGDC 322.90 Increased By ▲ 2.94 (0.92%)
PAEL 39.95 Increased By ▲ 0.53 (1.34%)
PIBTL 16.98 Increased By ▲ 0.31 (1.86%)
PIOC 268.15 Increased By ▲ 2.09 (0.79%)
PPL 229.39 Increased By ▲ 1.21 (0.53%)
PRL 34.87 Increased By ▲ 0.19 (0.55%)
SNGP 99.39 Increased By ▲ 0.21 (0.21%)
SSGC 27.00 Increased By ▲ 0.40 (1.5%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.28 (3.38%)
TPLP 8.61 Increased By ▲ 0.39 (4.74%)
TRG 69.85 Increased By ▲ 0.14 (0.2%)
UNITY 11.68 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز طبی آلات کے لیے ڈیجیٹل لائسنسنگ اور رجسٹریشن سسٹم کا افتتاح کیا، انہوں نے اسے صحت عامہ کی اصلاحات اور شفافیت میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے گہرے نظامی مسائل کے حل کے لیے قومی اتحاد پر زور دیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ملک کے صحت کے شعبے میں انقلاب لانا ایک کٹھن کام ضرور ہے، لیکن اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ وہ دن دور نہیں جب ہم دنیا کی قوموں کے درمیان سربلند ہو کر چلیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیا شروع ہونے والا ڈیجیٹل پلیٹ فارم—جو پچھلی اتحادی حکومت کے تحت شروع کیا گیا تھا—طبی آلات کے مینوفیکچررز کو یہ سہولت دے گا کہ وہ لائسنسنگ کے تمام مراحل آن لائن مکمل کریں اور 20 دن کے اندر منظوری حاصل کریں۔ اس سے وہ تاخیر ختم ہوگی جو کئی سالوں پر محیط تھیں اور جنہوں نے، بدعنوانی اور نااہلی کو فروغ دیا۔

شہباز شریف نے وزارتِ صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور اس کی قیادت کو اس کامیابی پر مبارکباد دی۔

انہوں نے ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو کی میرٹ پر تقرری کو سراہا اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ اصلاحات شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے پروفیسر میجر جنرل (ر) ڈاکٹر اظہر محمود کیانی کو راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا سربراہ مقرر کیا، جس نے اس اسپتال کو شمالی پاکستان کے مریضوں کے لیے ایک بہترین کارڈیک اسپتال میں تبدیل کر دیا۔

انہوں نے ایک حالیہ مثال بھی شیئر کی کہ وفاقی مداخلت سے ایک غیر ملکی فنڈڈ اسپتال اور برن یونٹ دوبارہ فعال کیا گیا جو کئی سالوں سے بند پڑا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں ہار نہیں ماننی چاہیے، ابھی بھی اصلاحات ممکن ہیں اگر ہم بروقت عمل کریں۔

ماضی کے صحت عامہ کے مسائل پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے 16-2015 میں شروع کیے گئے ایک منصوبے کا ذکر کیا، جس میں سرکاری اسپتالوں میں ادویات کے معیار کو پرکھا گیا تھا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ابتدائی ٹیسٹوں میں 60 فیصد سے زیادہ ادویات ناقص پائی گئیں۔ ”یہ تکلیف دہ تھا، لیکن ہم نے اصلاحی اقدامات کیے“، انہوں نے کہا، مزید بتایا کہ اس کے بعد سے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کا معیار کافی بہتر ہوا ہے۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے ایمان اور استقامت کا حوالہ دیا اور کہا کہ اللہ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ وہ محنت کا صلہ دیتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قوم متحد ہو اور اپنی تقدیر خود لکھے۔

اس تقریب میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس نظام کو صحت عامہ کی اصلاحات کا بنیادی ستون قرار دیا، جو عوامی رسائی بڑھانے اور کرپشن ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب کسی ایجنٹ یا بیرونی مدد کی ضرورت نہیں، پورا عمل گھر بیٹھے مکمل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے پرانے لائسنسنگ نظام کو اقربا پروری اور نااہلی کا شکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیا نظام وزیراعظم کے شفاف اور آسان حکمرانی کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

عوامی صحت کے بڑے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں غیر محفوظ پانی سے پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں اب بھی بنیادی سیوریج سسٹم موجود نہیں، جو صحت کے مسائل کو مزید بڑھا رہا ہے۔

ایک اہم اعلان میں وزیر صحت نے بتایا کہ 3 ماہ کے اندر ایک کیو آر اور بارکوڈ ویری فکیشن سسٹم شروع کیا جائے گا، جس سے 24 کروڑ شہری ادویات کی قیمت اور معیادِ ختم کی تصدیق کر سکیں گے۔

انہوں نے ملک میں آبادی کے تیز رفتار اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی، جو فی الوقت 2.5 فیصد ہے، یعنی ہر سال تقریباً 6.15 ملین افراد کا اضافہ—جو ہر سال نیوزی لینڈ کی پوری آبادی سے زیادہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار ترقی کے لیے اس شرح کو 2 فیصد تک لانا ہوگا۔

مزید اصلاحات نرسنگ، میڈیکل اور ڈینٹل کونسلز کے لیے بھی زیر غور ہیں، جب کہ بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ بڑے اسپتالوں پر بوجھ کم ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.