چین کے وزیر اعظم لی چیانگ نے اعلان کیا ہے کہ تبت کے مشرقی کنارے پر دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس پر تقریباً 170 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا کے مطابق یہ منصوبہ یانگتزے دریا پر بننے والے تھری گورجز ڈیم کے بعد چین کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہے، جس کی پیداوار 2030 کی دہائی میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
یہ ڈیم یارلنگ زانگبو کے زیریں بہاؤ میں پانچ سلسلہ وار پن بجلی گھروں پر مشتمل ہوگا، جہاں دریا صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے میں 2000 میٹر نیچے گرتا ہے، جو بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ منصوبے کی سالانہ پیداوار 300 ارب کلو واٹ آور متوقع ہے، جو تبت اور چین کے دیگر حصوں میں توانائی کی بڑھتی طلب پوری کرنے میں مددگار ہوگی۔
بھارت اور بنگلہ دیش نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ منصوبہ زیریں علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے پانی کی دستیابی کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ ماحولیاتی تنظیموں نے تبت کے منفرد اور حساس ماحولیاتی نظام پر ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
منصوبے کے آغاز سے چینی اسٹاک مارکیٹ میں مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ تعمیراتی شعبے کی کئی کمپنیوں کے شیئرز میں 10 سے 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جن میں ٹنل مشینری، سیمنٹ اور سول ایکسپلوسِوز بنانے والی کمپنیاں شامل ہیں۔
چینی وزیر اعظم نے منصوبے کو صدی کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ پر زور دیا۔ تاہم اس منصوبے سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ماضی میں تھری گورجز ڈیم نے تقریباً دس لاکھ ملازمتیں پیدا کی تھیں لیکن اتنی ہی بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔
یارلنگ زانگبو دریا بھارت اور بنگلہ دیش میں برہما پتر کہلاتا ہے، اور اس کے زیریں علاقوں میں ممکنہ اثرات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔






















Comments
Comments are closed.