ملک کو 700 ارب روپے سے زائد ٹیکس فراڈ کا سامنا ہے، ایف بی آر کا انکشاف
- پاکستان میں سیلز ٹیکس فراڈ کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی زیادہ ہے، راشد لنگڑیال
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو 700 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس فراڈ کا سامنا ہے۔
ایف بی آر چیف نے کہا کہ پاکستان میں سیلز ٹیکس فراڈ کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی زیادہ ہے۔ انہوں نے ٹیکس فراڈ کے ممکنہ حجم کا تخمینہ 700 ارب روپے سے زائد لگایا اور واضح کیا کہ نظام میں بہتری کے باوجود سیلز ٹیکس فراڈ کا مکمل خاتمہ فی الحال ممکن نہیں۔
راشد لنگڑیال نے تسلیم کیا کہ ملک میں ٹیکس چوری کی موجودہ سطح تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، تاہم سیلز ٹیکس سے متعلق فراڈ کو جزوی طور پر کنٹرول کرنے میں کچھ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بعد از آڈٹ نظام کو مزید بہتر بنانے اور جعلی انوائسز کے اجرا کی روک تھام کے لیے سخت سزاؤں کے نفاذ کی ضرورت ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران عدالتوں میں زیر التوا ٹیکس مقدمات کے فیصلوں کے بعد 200 ارب روپے کی وصولی ممکن ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو ٹیکس فراڈ پر قابو پانے اور فراڈ کے مقدمات سے واجبات کی وصولی کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔
تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ گرفتار شدہ ٹیکس چوروں کی بار بار رہائی سے جرم کی روک تھام کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچتا ہے اور یہ عمل مستقبل میں ٹیکس فراڈ کو روکنے کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔
























Comments
Comments are closed.