BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

پاکستان جنوبی ایشیا میں خواتین کو ملازمت دینے میں سب سے پیچھے، تنخواہوں میں نمایاں فرق

  • اجرت پر کام کرنے والی خواتین کو نمایاں طور پر کم تنخواہیں دی جاتی ہیں، بین الاقوامی ادارہ محنت کی رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

بین الاقوامی ادارہ محنت (آئی ایل او) کی ایک نئی رپورٹ نے پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں صنفی عدم مساوات کو نمایاں کیا ہے، جس میں جنوبی ایشیا میں مردوں اور خواتین کی ملازمت کی شرح کے درمیان سب سے بڑا فرق اور تنخواہوں میں نمایاں عدم مساوات ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستان جینڈر پے گیپ رپورٹ 2025 کے مطابق، جو قومی لیبر فورس سروے پر مبنی ہے، 2021 میں پاکستان میں مردوں کی ملازمت کی شرح 79.2 فیصد جبکہ خواتین کی شرح صرف 23.2 فیصد تھی۔ گزشتہ دہائی کے دوران یہ فرق خاص طور پر کم نہیں ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو چند خواتین ملازمت کرتی ہیں، ان میں سے زیادہ تر مردوں کی نسبت ویج ایمپلائی (تنخواہ دار ملازم) نہیں ہوتیں — جو کہ تنخواہوں میں صنفی فرق کے تخمینے کے لیے استعمال ہونے والا زمرہ ہے۔ اس کے بجائے، خواتین عموماً خود روزگار کے زمرے میں خاندان کی معاونت کرنے والے کارکن کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان میں صرف 13.5 فیصد ملازمین خواتین ہیں۔

 ۔
۔

اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ تنخواہ دار ملازمت میں شامل خواتین اکثر اپنے مرد ساتھیوں کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی ہیں۔ مزید برآں، خواتین ملازمین کو عموماً سرکاری شعبے، باضابطہ روزگار، مستقل معاہدوں والی نوکریوں، پیشہ ورانہ عہدوں اور بڑی کمپنیوں میں کام کرتے ہوئے پایا گیا ہے۔ پاکستانی خواتین اکثر جز وقتی کام کرتی ہیں تاکہ وہ گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ملازمت کو متوازن رکھ سکیں۔

ان عوامل کے باوجود، رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں تنخواہوں میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ مرد و خواتین ملازمت کے مختلف زمروں کو مدنظر رکھتے ہوئے، خواتین اوسطاً مردوں سے 25 سے 30 فیصد کم تنخواہ حاصل کرتی ہیں۔ جب ماہانہ اجرت کو دیکھا جائے، تو یہ فرق 30 فیصد تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ خواتین اوسطاً کم مدّت کے لیے تنخواہ دار کام کرتی ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر، پاکستان کا جینڈر پے گیپ نہ صرف عالمی اوسط سے تقریباً 10 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے بلکہ کم درمیانی آمدنی والے ممالک (جس گروپ میں پاکستان شامل ہے) سے بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔ یہ فرق سری لنکا اور نیپال جیسے دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بھی نمایاں ہے۔

 ۔
۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تنخواہوں کا صنفی فرق عمر رسیدہ کارکنان، کم تعلیم یافتہ افراد، غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والوں، اور نجی شعبے میں زیادہ ہے۔ اس کے برعکس، یہ فرق نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں کم دیکھا گیا ہے۔ زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں یہ فرق سروس سیکٹر کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔

وجوہات کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ سرکاری شعبے اور دستاویزی معیشت میں جینڈر پے گیپ کم یا نہ ہونے کے برابر ہے، جو اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ نجی شعبے اور غیر رسمی معیشت میں محنت کش قوانین پر عملدرآمد کی کمی اس فرق کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

عمر کے ساتھ فرق میں اضافے کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خواتین بچوں کی پیدائش کے بعد لچکدار اور کم تنخواہ والی نوکریوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ کم تعلیم یافتہ خواتین کے لیے یہ فرق 40 فیصد سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کے لیے یہ نسبتاً کم ہوتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم بہتر ملازمت کے مواقع کے حوالے سے کچھ رکاوٹوں کو کم کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں شامل ”ڈی کمپوزیشن انالیسز“ سے پتہ چلتا ہے کہ کم آمدنی والے ورکرز میں جینڈر پے گیپ اکثر ان عوامل سے وضاحت کے قابل نہیں ہوتا جو ظاہری طور پر مرد و خواتین میں یکساں ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین کو مردوں کے مساوی حالات کے باوجود کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس کی ممکنہ وجوہات میں پیشہ ورانہ علیحدگی ، کمپنیوں میں تنخواہوں کے ڈھانچے میں شفافیت کی کمی اور امتیازی تنخواہ پالیسیز شامل ہیں۔

Comments

Comments are closed.