پاکستان جنوبی ایشیا میں خواتین کو ملازمت دینے میں سب سے پیچھے، تنخواہوں میں نمایاں فرق
- اجرت پر کام کرنے والی خواتین کو نمایاں طور پر کم تنخواہیں دی جاتی ہیں، بین الاقوامی ادارہ محنت کی رپورٹ
بین الاقوامی ادارہ محنت (آئی ایل او) کی ایک نئی رپورٹ نے پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں صنفی عدم مساوات کو نمایاں کیا ہے، جس میں جنوبی ایشیا میں مردوں اور خواتین کی ملازمت کی شرح کے درمیان سب سے بڑا فرق اور تنخواہوں میں نمایاں عدم مساوات ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان جینڈر پے گیپ رپورٹ 2025 کے مطابق، جو قومی لیبر فورس سروے پر مبنی ہے، 2021 میں پاکستان میں مردوں کی ملازمت کی شرح 79.2 فیصد جبکہ خواتین کی شرح صرف 23.2 فیصد تھی۔ گزشتہ دہائی کے دوران یہ فرق خاص طور پر کم نہیں ہوا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو چند خواتین ملازمت کرتی ہیں، ان میں سے زیادہ تر مردوں کی نسبت ویج ایمپلائی (تنخواہ دار ملازم) نہیں ہوتیں — جو کہ تنخواہوں میں صنفی فرق کے تخمینے کے لیے استعمال ہونے والا زمرہ ہے۔ اس کے بجائے، خواتین عموماً خود روزگار کے زمرے میں خاندان کی معاونت کرنے والے کارکن کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان میں صرف 13.5 فیصد ملازمین خواتین ہیں۔

اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ تنخواہ دار ملازمت میں شامل خواتین اکثر اپنے مرد ساتھیوں کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی ہیں۔ مزید برآں، خواتین ملازمین کو عموماً سرکاری شعبے، باضابطہ روزگار، مستقل معاہدوں والی نوکریوں، پیشہ ورانہ عہدوں اور بڑی کمپنیوں میں کام کرتے ہوئے پایا گیا ہے۔ پاکستانی خواتین اکثر جز وقتی کام کرتی ہیں تاکہ وہ گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ملازمت کو متوازن رکھ سکیں۔
ان عوامل کے باوجود، رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں تنخواہوں میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ مرد و خواتین ملازمت کے مختلف زمروں کو مدنظر رکھتے ہوئے، خواتین اوسطاً مردوں سے 25 سے 30 فیصد کم تنخواہ حاصل کرتی ہیں۔ جب ماہانہ اجرت کو دیکھا جائے، تو یہ فرق 30 فیصد تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ خواتین اوسطاً کم مدّت کے لیے تنخواہ دار کام کرتی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر، پاکستان کا جینڈر پے گیپ نہ صرف عالمی اوسط سے تقریباً 10 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے بلکہ کم درمیانی آمدنی والے ممالک (جس گروپ میں پاکستان شامل ہے) سے بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔ یہ فرق سری لنکا اور نیپال جیسے دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بھی نمایاں ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تنخواہوں کا صنفی فرق عمر رسیدہ کارکنان، کم تعلیم یافتہ افراد، غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والوں، اور نجی شعبے میں زیادہ ہے۔ اس کے برعکس، یہ فرق نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں کم دیکھا گیا ہے۔ زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں یہ فرق سروس سیکٹر کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔
وجوہات کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ سرکاری شعبے اور دستاویزی معیشت میں جینڈر پے گیپ کم یا نہ ہونے کے برابر ہے، جو اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ نجی شعبے اور غیر رسمی معیشت میں محنت کش قوانین پر عملدرآمد کی کمی اس فرق کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔
عمر کے ساتھ فرق میں اضافے کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خواتین بچوں کی پیدائش کے بعد لچکدار اور کم تنخواہ والی نوکریوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ کم تعلیم یافتہ خواتین کے لیے یہ فرق 40 فیصد سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کے لیے یہ نسبتاً کم ہوتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم بہتر ملازمت کے مواقع کے حوالے سے کچھ رکاوٹوں کو کم کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں شامل ”ڈی کمپوزیشن انالیسز“ سے پتہ چلتا ہے کہ کم آمدنی والے ورکرز میں جینڈر پے گیپ اکثر ان عوامل سے وضاحت کے قابل نہیں ہوتا جو ظاہری طور پر مرد و خواتین میں یکساں ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین کو مردوں کے مساوی حالات کے باوجود کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس کی ممکنہ وجوہات میں پیشہ ورانہ علیحدگی ، کمپنیوں میں تنخواہوں کے ڈھانچے میں شفافیت کی کمی اور امتیازی تنخواہ پالیسیز شامل ہیں۔






















Comments
Comments are closed.