BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.02 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 27.17 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
BOP 36.46 Increased By ▲ 0.46 (1.28%)
CNERGY 11.94 Increased By ▲ 0.69 (6.13%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.03 Decreased By ▼ -2.16 (-0.98%)
FABL 100.40 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 57.36 Increased By ▲ 0.48 (0.84%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
GGL 24.62 Increased By ▲ 0.72 (3.01%)
HBL 324.62 Decreased By ▼ -0.98 (-0.3%)
HUBC 225.64 Increased By ▲ 2.06 (0.92%)
HUMNL 10.79 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.14 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
MLCF 102.07 Decreased By ▼ -1.02 (-0.99%)
OGDC 319.19 Increased By ▲ 0.70 (0.22%)
PAEL 43.88 Decreased By ▼ -0.50 (-1.13%)
PIBTL 16.84 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 274.84 Decreased By ▼ -1.02 (-0.37%)
PPL 221.55 Decreased By ▼ -0.93 (-0.42%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 103.79 Decreased By ▼ -1.12 (-1.07%)
SSGC 27.28 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
TELE 8.62 Decreased By ▼ -0.19 (-2.16%)
TPLP 14.98 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 63.29 Increased By ▲ 0.92 (1.48%)
UNITY 11.51 Decreased By ▼ -0.39 (-3.28%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

4 جولائی 2025 کو کراچی کے علاقے لیاری میں واقع فوتان مینشن کا انہدام ایک دل دہلا دینے والا سانحہ تھا جس نے 27 قیمتی جانیں نگل لیں اور بے قابو شہری زوال کے خطرات کو بے نقاب کردیا تاہم اس سانحے کے بعد سندھ حکومت نے جس تیزرفتار اور سخت اقدامات کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تقلید مثال بن کر سامنے آیا ہے— یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ فوری اور مؤثر فیصلے مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔

یہ 5 منزلہ عمارت جو کئی دہائیاں قبل غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی اور جسے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے طویل عرصے سے خطرناک قرار دیا جارہا تھا، ایک ایسا سانحہ تھی جو کسی بھی وقت پیش آسکتا تھا،اس کا انہدام اگرچہ انتہائی افسوسناک تھا لیکن اس نے حکومت کو فوری اقدام پر مجبور کردیا۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر جامع ریسکیو آپریشن کا حکم دیا حالانکہ تنگ گلیوں اور ہجوم کے باعث یہ کام خاصہ مشکل تھا۔ حکومت کی جانب سے کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہ کرنے کے عزم کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ریسکیو اہلکاروں نے تین دن تک انتھک محنت جاری رکھی۔

سندھ حکومت کے ردعمل کو منفرد بنانے والی بات اس میں ہمدردی اور جوابدہی کا امتزاج ہے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس معاوضے اور بے گھر ہونے والے متاثرین کے لیے تین ماہ کا کرایہ فراہم کرنے کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ایسے سانحات کے انسانی پہلو سے بخوبی آگاہ ہے۔

اسی دوران عمارت کے انہدام کی وجوہات جاننے اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کا قیام حکومت کے سنجیدہ عزائم کا عکاس ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل سمیت متعدد افسران کی معطلی، آٹھ اہلکاروں اور عمارت کے مالکان کی گرفتاری، اور غفلت کے خلاف سخت کارروائی، اس بات کا واضح پیغام ہے کہ حکومت کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کرے گی۔ بدانتظامی اور غیر ارادی قتل کے مقدمے کا اندراج اس عزم کو مزید تقویت دیتا ہے کہ انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

حکومتی اقدامات صرف فوری امداد تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ سندھ بھر میں 740 غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی، جن میں سے 51 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے، اس وسیع بحران کی حقیقت پسندی سے آگاہی کو ظاہر کرتی ہے۔ لیاری میں نو خستہ حال عمارتوں کا خالی کرایا جانا اور ایک عمارت کا انہدام حفاظتی اقدامات کی جانب جرات مندانہ پیشرفت ہے۔

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی سربراہی میں بحالی کمیٹی کا قیام اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کو 15 دن کے اندر اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ہدایت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نہ صرف فوری ضروریات پر توجہ دے رہی ہے بلکہ نظام میں موجود کرپشن سے نمٹنے کے لیے بھی جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

غیر قانونی تعمیرات کے خلاف قانون سازی کے لیے کمیٹی کا قیام سندھ حکومت کی جانب سے ایک پائیدار اصلاحاتی عمل کی بنیاد رکھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔

تنقید کرنے والے یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ اقدامات فوتان مینشن کے متاثرین کے لیے بہت تاخیر سے کیے گئے، لیکن وہ کراچی جیسے پیچیدہ اور بے ترتیب شہری نظام میں حکومتی معاملات کی نزاکتوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔

سندھ حکومت نے نہ صرف فوری ردعمل دیا بلکہ تبدیلی کیلئے ایک واضح لائحہ عمل بھی پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے شہریوں کو فلیٹ خریدنے سے قبل عمارت کی منظوری چیک کرنے کی ہدایت ایک عملی قدم ہے جو عوام کو بااختیار بنانے کی سمت میں اہم پیشرفت ہے۔ یہ ایسی حکمرانی ہے جو ہمدردی اور قانون نافذ کرنے کے درمیان توازن قائم کرتی ہے اور دوسروں کے لیے ایک قابل تقلید معیار متعین کرتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.