اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں گزشتہ سیشن میں شدید مندی کے بعد جمعرات کو تیزی کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1200 سے زائد پوائنٹس کے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,205.36 پوائنٹس یا 0.91 فیصد کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 133,782.34 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ کاروباری سیزن کے آغاز سے قبل سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد نے مارکیٹ کے مثبت رجحان کو سہارا دیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کمپنیوں کے مالیاتی نتائج مضبوط ہوں گے، جس کے باعث اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھنے میں آئی۔
ٹیکسٹائل سیکٹر میں نشاط ملز لمیٹڈ (این ایم ایل) نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے بعد سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم نشاط ملز پر اپنی ’خریداری کی سفارش‘ برقرار رکھتے ہیں، جس کا ہدفی قیمت (جون 2026 تک) 225 روپے ہے، جو اسٹاک میں مثبت رجحان کو مزید تقویت دے رہی ہے۔
ٹاپ لائن کے مطابق MEBL، MCB، UBL، BAHL، FFC، HBL اور BAFL انڈیکس میں مجموعی طور پر 702 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ سرِفہرست رہیں۔
معاشی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل اس وقت عبور ہوا جب پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے دوران ترسیلات زر کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی، جو 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
یہ غیر معمولی اضافہ وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی طرف سے ترسیلات زر کو باضابطہ ذرائع سے بھیجنے کی حوصلہ افزائی، پالیسی اقدامات اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس ) میں نمایاں مندی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے حالیہ ریکارڈ توڑ تیزی کے بعد منافع کی وصولی کو ترجیح دی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس میں 826 پوائنٹس یا 0.62 فیصد کمی ہوئی اور یہ 132,577 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں جمعرات کو معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی وجہ نیوڈیا کی مختصر مدت کے لیے دنیا بھر میں 4 ٹریلین ڈالر مالیت تک پہنچنے کی تاریخی پیش رفت اور سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ تجارتی پابندیوں کو نظر انداز کیا جانا ہے۔
امریکہ میں کاپر فیوچرز کی قیمتوں نے بدھ کی رات لندن بینچ مارک کے مقابلے میں اپنا پریمیم مزید بڑھالیا،جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کاپر پر 50 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں انہوں نے بدھ کو وضاحت کی کہ یہ ڈیوٹیاں یکم اگست سے نافذ العمل ہوں گی۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو اپنا تجارتی غصہ برازیل کی جانب بھی موڑ لیا، جہاں انہوں نے امریکہ کو برآمدات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی اور ساتھ ہی سات چھوٹے تجارتی شراکت داروں کو بھی ٹیکس نوٹسز جاری کیے۔
ٹرمپ کے ان حالیہ اقدامات کا مارکیٹوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا اور نتیجتاً جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع تر انڈیکس 0.2 فیصد کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
نکئی انڈیکس میں 0.56 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ چین کا سی ایس آئی 300 بلیو چِپ انڈیکس 0.2 فیصد بڑھ گیا اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.1 فیصد کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
یورواسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز 0.33 فیصد بڑھ گئے۔
جمعرات کے روز پاکستانی روپے کی قدر میں مزید معمولی کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ 0.03 فیصد کمزور ہو کر ڈالر کے مقابلے میں 284.56 روپے پر بند ہوا، یعنی 9 پیسے کی کمی ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم 941.72 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 905.74 ملین تھا۔
اسی طرح شیئرز کی مجموعی مالیت بھی بڑھ کر 36.06 ارب روپے ہو گئی جو گزشتہ روز 30.53 ارب روپے تھی۔
بینک آف پنجاب (بی او پی) 155.38 ملین شیئرز کے ساتھ سرِفہرست رہا اس کے بعد کوہِ نور اسپننگ 55.11 ملین اور ہیسکول پیٹرول 33.30 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔
مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں 260 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 195 میں کمی جبکہ 24 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

























Comments
Comments are closed.