پاکستان خودمختار مالیاتی خطرات میں کمی کے لحاظ سے ابھرتی معیشتوں میں سرفہرست، بلومبرگ انٹیلیجنس
- ڈیفالٹ کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد پر آ گیا — 11 فیصد پوائنٹس کی بہتری
معاشی محاذ پر ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر پاکستان خودمختار کریڈٹ رسک میں بہتری کے لحاظ سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرفہرست آ گیا ہے۔ یہ بات بلوم برگ انٹیلیجنس کے تازہ تجزیے میں بتائی گئی ہے۔
مشیر برائے وزیر خزانہ پاکستان خُرم شہزاد نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر لکھا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب شراکت کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں ڈیفالٹ رسک میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو سرمایہ کاروں کے ازسرِ نو اعتماد اور مالی اعتبار میں بہتری کی علامت ہے۔
بلوم برگ انٹیلیجنس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر خودمختار ڈیفالٹ رسک میں سب سے زیادہ بہتری دکھانے والی معیشت کے طور پر ابھرا ہے، جس کی پیمائش کریڈٹ ڈیفالٹ سوآپز (سی ایس ڈی) کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق پاکستان نے عالمی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی درجہ بندی میں ڈیفالٹ رسک میں سب سے بڑی کمی کی ہے، جہاں گزشتہ 12 ماہ کے دوران خودمختار ڈیفالٹ رسک میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سی ایس ڈی ایک مالیاتی معاہدہ ہے جس کے ذریعے سرمایہ کار اپنی کریڈٹ رسک کو کسی دوسرے سرمایہ کار کے ساتھ تبدیل یا متوازن کر سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت قرض دہندہ سی ایس ڈی خریدتا ہے، جو دوسرے سرمایہ کار کی ضمانت ہوتی ہے کہ اگر قرض لینے والا ڈیفالٹ کر جائے تو اسے معاوضہ دیا جائے گا۔
خرم شہزاد نے کہا کہ بلوم برگ انٹیلیجنس کے اعداد و شمار کے حوالے سے ڈیفالٹ کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا ہے، جو 11 فیصد پوائنٹس کی نمایاں بہتری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہتری بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سب سے زیادہ ہے، جہاں ارجنٹینا میں 7 فیصد، تیونیشیا میں 4 فیصد، اور نائجیریا میں 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کے برعکس، ترکی، ایکواڈور، مصر اور گیبون جیسے ممالک میں ڈیفالٹ رسک بڑھا ہے۔
خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رسک کی کمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی تجدید کی علامت ہے، جو کہ ”معاشی استحکام، ساختی اصلاحات، آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب تعلقات، وقت پر قرض کی ادائیگیاں، اور ایس اینڈ پی، فِچ اور دیگر کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی بہتر پیشن گوئیوں“ کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف عالمی نقشے پر واپس آیا ہے بلکہ استحکام، اعتماد، اور اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔






















Comments
Comments are closed.