اینڈریو کومو کی شکست تسلیم کرنے کے بعد زہران ممدانی جو کہ 33 سالہ ریاستی قانون ساز اور خود کو جمہوری سوشلسٹ کہلانے والے سیاستدان ہیں نے نیویارک میئر کے لیے ہونے والا ڈیموکریٹک پارٹی کا انتخاب جیتنے کے قریب ہیں۔
67 سالہ اینڈریو کومو جو چار سال قبل جنسی ہراسانی کے الزامات پر مستعفی ہونے کے بعد سیاسی واپسی کی کوشش کر رہے تھے نے اپنے حامیوں سے مختصر خطاب کے دوران بتایا کہ انہوں نے زہران ممدانی کو فون کرکے ان کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
اینڈریو کومو نے انتخابی دوڑ میں زہران ممدانی کی جیت تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آج کی رات اُن کی ہے۔
زہران ممدانی نے 43 فیصد سے زائد ووٹ لیے جبکہ اینڈریو کومو 36 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔
ممدانی نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے فتح کا اعلان کیا۔
کامیابی کے بعد زہران ممدانی نے ووٹرز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اب ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نیویارک کے مئیر کا انتخاب لڑیں گے۔
انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو مسترد کرنے اور ہمارے شہر کو ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک مثالی ماڈل کے طور پر چلانے کا وعدہ کیا۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے زہران ممدانی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے سیاسی، معاشی اور میڈیا اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی۔
سینیٹر برنی سینڈرز کا کہنا تھا کہ اُمید ہے کہ آپ میئر کا الیکشن بھی جیتیں گے۔























Comments
Comments are closed.