سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، بھارت دہشت گردی کا سرپرست، دراندازی کے الزامات بے بنیاد قرار
- دہشت گردی سے متعلق یہ بے بنیاد الزام دراصل پاکستان کے خلاف بھارت کی دہشت گردی کی سرپرستی اور مالی معاونت کو چھپانے کی کوشش ہے، انصار شاہ
پاکستانی سفارت کار نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ بھارت دہشت گردی کا سرپرست ہے اور اس کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس موقع پرانہوں نے پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے نئی دہلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کے فرسٹ سیکریٹری انصار شاہ نے بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق یہ بے بنیاد الزام دراصل پاکستان کے خلاف بھارت کی دہشت گردی کی سرپرستی اور مالی معاونت کو چھپانے کی کوشش ہے۔
بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کا یہ ردِعمل اس سے قبل قدرتی وسائل کی حکمرانی سے متعلق بحث میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بالادستی رکھنے والے بالائی دریا کے ملک کی حیثیت کا یکطرفہ اور غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کرچکا ہے۔
بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کا یہ ردِعمل اقوام متحدہ میں قدرتی وسائل کی حکمرانی سے متعلق بحث کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت بالائی دریا کے ملک کی حیثیت کا یکطرفہ اور غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے اور 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر چکا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اس نوعیت کا اقدام نہ تو 1960 کے سندھ طاس معاہدے میں موجود ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے عمومی اصول اس کی اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیرقانونی اقدام ہے جو پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کے روزگار، معاش اور فلاح و بہبود کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ یہ سب ایسے وقت میں ہورہا ہے جب جموں و کشمیر کا تنازع جو جنوبی ایشیا میں طویل عرصے سے کشیدگی کا ایک اہم مرکز رہا ہے بدستور موجود ہے۔ ایسی صورتحال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
اس پر بھارتی سفیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر ہمارا موقف واضح اور مستقل ہے۔ باہمی اعتماد اور خیر سگالی کی بنیاد پر تعاون کی توقع اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک کہ سرحد پار دہشت گردی کو باقاعدہ طور پر ریاستی پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہو۔
بھارتی سفیر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔
بھارت کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انصار شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں معطل کرنے کی اجازت دینے والی کوئی شق شامل نہیں، انہوں نے نئی دہلی کے اس اقدام کو سراسر غیر قانونی قرار دیا۔
پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ کورٹ آف آربیٹریشن نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ یہ معاہدہ اپنے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ساتھ اب بھی درست، پابند اور پوری طرح نافذ العمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جبر کے لیے ایک مشترکہ قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا قانونی دستاویزات اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
پاکستانی سفارت کار کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
دہشت گردی کے الزام کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کے دہشت گرد پراکسیز ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ نے ملک کی سرزمین پر خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو شہید کیا ہے۔
انصارشاہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ شمالی امریکہ سمیت دیگر علاقوں میں ماورائے عدالت قتل میں بھارت کا ملوث ہونا بھی سب پر عیاں ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہی ہے۔ قابض طاقت کا کوئی بھی یکطرفہ یا غیر قانونی اقدام جموں و کشمیر کے مقبوضہ علاقے کی تاریخی، قانونی اور متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔



















Comments