وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اپوزیشن اراکین کی تنقید کے دوران جمعہ کو کہا ہے کہ موجودہ بجٹ کا مقصد اقتصادی کامیابیوں کو مزید مستحکم کرنا، عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور اصلاحات کے عمل کو تسلسل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات ٹیکس فراڈ کی تحقیقات تک وسعت اختیار کریں گی، جن کا مقصد من مانی گرفتاریوں سے بچاؤ کے لیے مؤثر تحفظات فراہم کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت، صرف اُنہی مقدمات میں گرفتاری عمل میں آئے گی جہاں سیلز ٹیکس فراڈ کی مالیت 5 کروڑ روپے سے تجاوز کرے، اور وہ بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے تین رکنی پینل کی پیشگی منظوری سے مشروط ہوگی۔
تاہم اپوزیشن اراکین اسمبلی نے بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ وژن سے عاری ہے اور چند مخصوص اشرافیہ کو غیر معمولی فائدہ پہنچاتا ہے۔ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے مختص رقم میں اضافے پر بھی اعتراض کیا، جو 592 ارب روپے سے بڑھا کر 716 ارب روپے کر دی گئی ہے، اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ اضافہ تعلیم کے شعبے کی قربانی دے کر کیا گیا ہے، جس کے لیے مختص رقم بدستور کم ہے۔
اپوزیشن نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں محض علامتی 10 فیصد اضافے اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کم از کم اجرت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جس کی مبینہ وجہ صنعتکاروں کا دباؤ ہے۔
وزارت خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کے لیے کچھ ٹیکس ریلیف کا اعلان ضرور کیا جو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پہلے سے کیا گیا وعدہ تھا، تاہم اپوزیشن ارکان نے سالانہ 12 لاکھ روپے سے زائد کمانے والوں کے لیے دیے گئے اس ٹیکس ریلیف کو ’ظالمانہ مذاق قرار دیتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا۔
اجلاس کے آغاز میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں چار قانونی ضابطہ جاتی احکامات (ایس آر اوز) پیش کیے، جو کسٹمز ایکٹ اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے اسپیکر کو یقین دلایا کہ وہ پیر کو بجٹ پر جاری بحث کو سمیٹیں گے۔
فنانس بل 2025-26 پر جاری بحث میں اپوزیشن اور حکومتی بینچوں سے تعلق رکھنے والے متعدد اراکین اسمبلی نے حصہ لیا اور مختلف خدشات و تجاویز کا اظہار کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے زرعی شعبے کے لیے زیادہ تعاون کا مطالبہ کیا جبکہ صباء تالپور نے بھی ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کی مدد کے لیے بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔
تحریک انصاف کے جنید اکبر خان نے کہا کہ بجٹ میں عوام کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا اور خیبر پختونخوا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لیے خصوصی توجہ کی ضرورت پر زور دیا۔
پی پی پی کے آغا رفیع اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ فیملی پنشن اصلاحات پر نظر ثانی کی جائے اور بیواؤں اور معذور بچوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔
سربراہ عوامی تحریک صاحبزادہ حامد رضا (ایس آئی سی) نے بجٹ میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کو نظر انداز کرنے پر سخت تنقید کی۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور محمد یوسف نے بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے حکومت کی حج انتظامات پر تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال 1 لاکھ 15 ہزار سے زائد پاکستانی عازمین حج میں شریک ہوئے اور سعودی عرب نے پاکستان کو بہترین انتظامات پر ایوارڈ سے نوازا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال کے حج کی منصوبہ بندی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
سرمایہ کاری بورڈ کے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ملکی معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، مہنگائی میں کمی اور ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایک میثاقِ معیشت پر متفق ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر برائے عوامی امور رانا مبشر اقبال نے بتایا کہ بلوچستان کے لیے 250 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 100 ارب روپے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ہیں، جبکہ ڈیموں، زراعت، توانائی، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے بھی مزید فنڈز رکھے گئے ہیں۔
وزیر مملکت برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کیسو مال کھیئل داس نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی شعبے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور حکومت کی سکھر-کراچی موٹر وے مکمل کرنے کے عزم کی تصدیق کی۔
مرتضیٰ محمود نے معیشتی استحکام کے لیے حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسرائیلی جارحیت، چاہے وہ غزہ، لبنان، ایران یا کہیں بھی ہو، کے خلاف پاکستان کے موقف کو دہرایا اور کہا کہ ملک ایسے اقدامات کی مسلسل مزمت اور مخالفت کرتا رہے گا۔
بحث میں حصہ لینے والے دیگر ارکان اسمبلی میں فیاض حسین، عظیم الدین زاہد، شہریار خان مہار، عثمان سرور، نور عالم، فرح ناز، اور ظلفقار علی، زہرہ ودود شامل تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.