صدرِ مملکت نے کیپٹو پاور پلانٹس لیوی بل 2025 کی منظوری دیدی
- بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔
صدرِ پاکستان نے ”دی آف دی گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی بل 2025“ کی منظوری دے دی ہے، جو کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پہلے ہی منظور ہو چکا تھا۔ اس قانون کے تحت گیس پر انحصار کرنے والے کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کی جائے گی، جس کی شرح مرحلہ وار بڑھائی جائے گی۔
یہ بل 22 مئی 2025 کو قومی اسمبلی سے منظور ہوا تھا، جس میں یہ درج ہے کہ گیس یا آر ایل این جی کے استعمال پر لیوی کی شرح فوری طور پر 5 فیصد، جولائی 2025 سے 10 فیصد، فروری 2026 سے 15 فیصد اور اگست 2026 سے 20 فیصد کر دی جائے گی۔
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے یہ مالیاتی بل ایوان میں پیش کیا، جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی، تاہم حکومت نے اکثریتی ووٹوں سے بل منظور کروا لیا۔
وزارت پارلیمانی امور کے مطابق، صدرِ مملکت کی منظوری 6 جون 2025 کو وزیر اعظم کے دفتر کے ذریعے موصول ہوئی، جس کے بعد اسے متعلقہ وزارتوں کو مزید کارروائی کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
بل کی شق 3 کے مطابق، ہر کیپٹو پاور پلانٹ وفاقی حکومت کو گیس کے استعمال پر لیوی ادا کرے گا، جو کہ اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں سے ہٹ کر ہوگی۔ اس لیوی کی بلنگ، وصولی اور ادائیگی کی ذمہ داری ایک نامزد ایجنٹ کے سپرد ہوگی۔
شق 4 میں لیوی کی شرح کے تعین کا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے، جس کے مطابق یہ شرح نیپرا کے مقرر کردہ صنعتی بی 3 کیٹیگری کے ٹیرف اور اوگرا کے گیس ٹیرف پر کیپٹو پاور پلانٹ کی لاگت کے فرق کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ اس شرح میں بھی تدریجی اضافے کی شق شامل ہے۔
بل کی شق 5 کے مطابق، یہ لیوی بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کی جائے گی، تاکہ تمام صارفین کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ مزید یہ کہ ہر مالی سال کے اختتام کے تین ماہ کے اندر اس لیوی کے استعمال کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی جائے گی۔
شق 6 میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی کیپٹو پاور پلانٹ مقررہ وقت میں لیوی ادا کرنے میں ناکام رہا، تو ایجنٹ کو اختیار ہوگا کہ وہ گیس کی فراہمی منقطع کر دے۔ اس کے علاوہ، بقایاجات کی وصولی پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت کی جائے گی۔
شق 7 میں کہا گیا ہے کہ کیپٹو پاور پلانٹس کی جانب سے ادا کی جانے والی لیوی کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت کاروباری اخراجات تصور کیا جائے گا اور اس کا حساب منافع یا آمدنی کے تعین میں شامل کیا جائے گا۔
شق 10 کے تحت، کسی بھی قانونی پیچیدگی یا نفاذ میں دقت کی صورت میں صدرِ مملکت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس قانون کے مطابق مسئلے کا حل تجویز کر سکیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل نے بل کی منظوری کی سفارش کی تھی اور زور دیا تھا کہ صنعتی شعبے کو اس منتقلی کے عمل میں اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ ان کی گیس کی سپلائی اچانک بند نہ ہو۔ کمیٹی نے پاور ڈویژن کو ٹرانزیشنل پلان پیش کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ عمل درآمد کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کا تدارک کیا جا سکے۔
کمیٹی نے پاور ڈویژن سے یہ بھی کہا کہ مستقبل کی دستاویزات کو زیادہ مختصر اور قابل فہم انداز میں پیش کیا جائے، اور ایم ای ایف پی (معاشی و مالیاتی پالیسی یادداشت) پر تفصیلی گفتگو کے لیے اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔
علاوہ ازیں، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کیپٹو پاور استعمال کرنے والوں کو قدرتی گیس کے استعمال سے نہیں روکا جائے گا، بلکہ ان سے زیادہ نرخ وصول کیے جائیں گے۔ اس ضمن میں نان ایکسپورٹ کنزیومرز، جن کے میٹرز تبدیل ہونے ہیں، ان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور پاور ڈویژن کو اگلے اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ان معاملات پر مفصل گفتگو ہو سکے۔
یہ بل اب قانون بن چکا ہے، اور وفاقی حکومت جلد ہی اس پر عمل درآمد کا آغاز کرے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.