چین نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ پاکستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں اس کی حمایت کرتا ہے ۔ یہ بیان بھارت کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر میں خونریز حملے کے بعد 4 روزہ جھڑپوں کے خاتمے اور جنگ بندی کے بعد سامنے آیا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے بیجنگ میں اپنے پاکستانی ہم منصب محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کے دوران کہا کہ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اختلافات کے حل کا خیرمقدم کرتا ہے۔
اسحاق ڈار کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اپریل میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں خونریز حملے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان ڈرون، میزائل اور توپ خانے کی جوابی کارروائیاں ہوئیں۔
نئی دہلی نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا کہ وہ ان حملہ آوروں کی پشت پناہی کر رہا ہے، جنہیں بھارت نے حملے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ تاہم پاکستان نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 مئی کو اچانک جنگ بندی کا اعلان کیا، جو ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود موثر دکھائی دے رہی ہے۔
چین پاکستان کو سب سے زیادہ اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے اور اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ بھارت کے خلاف کارروائی میں اسلام آباد نے چینی ساختہ جنگی طیارے استعمال کیے ہیں۔
ادھر چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وانگ ژی نے پاکستان کو ”ناقابلِ تسخیر دوست“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ”ہر موسم کی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری“ کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
























Comments
Comments are closed.