بھارتی حکام نے پاکستان کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کے الزام میں تقریباً ایک درجن افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ بات بھارتی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتائی ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 60 افراد جان سے گئے۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان یہ جھڑپیں 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد شروع ہوئیں۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے حملے کا الزام سختی سے مسترد کیا ہے۔
واضح رہے کہ مسلم اکثریت پر مشتمل کشمیر پر پاکستان اور بھارت دونوں کا دعوی ہے اور 1947 میں آزادی کے بعد سے دونوں ممالک اس متنازعہ ہمالیائی خطے پر متعدد جنگیں لڑ چکے ہیں۔
پیر کے روز این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ ہریانہ، پنجاب اور اتر پردیش کی شمالی ریاستوں سے نو مشتبہ ”جاسوس“ گرفتار کیے گئے ہیں۔
پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس گورو یادو نے پیر کو کہا کہ ان کی ٹیم نے دو ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو حساس فوجی معلومات افشا کرنے میں ملوث تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ”قابلِ اعتماد انٹیلیجنس اطلاعات“ موصول ہوئی تھیں کہ گرفتار کیے گئے دونوں افراد 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کے اندر بھارت کی مبینہ فضائی کارروائیوں سے متعلق خفیہ معلومات شیئر کرنے میں ملوث تھے۔
پنجاب پولیس کے سربراہ گورو یادو نے مزید بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں افراد کا پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے براہِ راست رابطہ تھا اور وہ بھارتی مسلح افواج سے متعلق اہم معلومات پاکستان بھیج چکے تھے۔
دوسری جانب ہریانہ میں بھی پولیس نے ایک ٹریول بلاگر کو اسی نوعیت کے الزامات پر گرفتار کیا ہے۔
پیر کو یہ اطلاع بھی سامنے آئی کہ مقبول بھارتی بلاگر جیوَتی ملہوترا کو پاکستان کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یوٹیوب پر ان کے 3.7 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور اسنیپ چیٹ کے ذریعے پاکستانی انٹیلیجنس کو خفیہ معلومات فراہم کرتی رہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، میٹا نے مبینہ ملزمہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی معطل کر دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون کم از کم دو بار پاکستان کا سفر کر چکی ہیں اور وہاں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار سے رابطے میں تھیں۔
گرفتار افراد میں ایک طالبعلم، ایک سیکیورٹی گارڈ اور ایک تاجر بھی شامل ہیں۔
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، 11 افراد کو اس سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان افراد کو سوشل میڈیا، مالی مراعات، جھوٹے وعدے، میسجنگ ایپس اور پاکستان کے ذاتی دوروں کے ذریعے جاسوسی نیٹ ورک میں شامل کیا گیا۔
یہ گرفتاریاں بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ بدترین کشیدگی کے بعد عمل میں آئیں، جو 1999 کے بعد دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان سب سے سنگین تصادم تصور کیا جا رہا ہے۔
چار دن تک جاری رہنے والے میزائل، ڈرون اور توپ خانے کے حملوں کے بعد مکمل جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تا تاہم پھر جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔
























Comments
Comments are closed.