وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے افغان ٹرانزٹ کے ذریعے پاکستان سے افغانستان درآمد ہونے والی مختلف تجارتی اشیاء پر دس فیصد پروسیسنگ فیس عائد کر دی ہے۔ اس میں زرعی آلات، جہازوں کے ڈیرکس، کرینیں، بھاپ پیدا کرنے والے بوائلرز، صنعتی و لیبارٹری بھٹیاں، خودکار ڈیٹا پروسیسنگ مشینیں اور دیگر کئی اقسام کی اشیاء شامل ہیں۔
ایف بی آر نے اس فیس کی فہرست میں مزید وسیع کرتے ہوئے پانچ بڑی اقسام کی افغان ٹرانزٹ اشیاء پر یہ فیس لگانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جو پہلے پانچ اقسام یعنی کنفیکشنریز، جوتے، مکینیکل اور الیکٹریکل مشینری، کمبل اور ملبوسات تک محدود تھی۔
وزارت تجارت کی جانب سے موصولہ تجاویز کے مطابق افغانستان میں کسٹم ڈیوٹی پاکستان کی نسبت بہت کم ہے، جس کا فائدہ بعض تاجروں کی ملی بھگت سے ناجائز طریقے سے اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت نے ایف بی آر کو مشورہ دیا کہ افغان ٹرانزٹ اشیاء کے لیے موجودہ ریوالوِنگ انشورنس گارنٹی کی جگہ 100 فیصد بینک گارنٹی لی جائے اور ایسے سامان پر دس فیصد ایڈ ویلورم پروسیسنگ فیس عائد کی جائے جن کی افغانستان میں کسٹم ڈیوٹی نہ ہونے کے برابر ہو اور جن پر ناجائز طور پر قیمت میں اضافہ کیا گیا ہو۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق یہ دس فیصد فیس کئی قسم کی مشینری اور آلات پر عائد کی گئی ہے، جن میں پلّی ٹیکل، ونچ، جیک، جہازوں کے ڈیرکس، کرینیں، موبائل لفٹنگ فریم، فورک لفٹ ٹرک، لفٹنگ اور ہینڈلنگ کی دیگر مشینیں، کھدائی اور زمین کی تیاری کی مشینری، زرعی اور باغبانی کی مشینری، انڈوں اور پھلوں کی صفائی و چھانٹی کی مشینیں، دودھ نکالنے کی مشینیں، خودکار ڈیٹا پروسیسنگ مشینیں، ٹیلی ویژن اور ریڈیو براڈکاسٹنگ کے آلات اور بجلی کی سرکٹ سوئچنگ کے آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی اور الیکٹرانک کباڑ پر بھی یہ فیس لاگو کی گئی ہے۔
یہ اقدام افغان ٹرانزٹ کے راستے غیر قانونی تجارت اور ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ پاکستان کی ملکی معیشت اور کسٹمز کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس سے نہ صرف ٹیکس کی وصولی بہتر ہوگی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں شفافیت بھی بڑھے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.