قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے سرکاری خریداری میں ملی بھگت کو معیشت کے خلاف ”میگا کرائم“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی سرگرمیوں کے خلاف مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے تعاون سے سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز نیب اور مسابقتی کمیشن کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یادداشت پر کمیشن کی سیکریٹری مریم پرویز اور نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز محمد طاہر نے دستخط کیے، جبکہ چیئرمین سی سی پی ڈاکٹر کبیر احمد صدیقی اور چیئرمین نیب سمیت دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
چیئرمین نیب نے اسے ”اسٹریٹجک اتحاد“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی سی پی کا ڈیٹا پر مبنی انٹیلی جنس ماڈل کارٹیل سازی اور مارکیٹ کے ناجائز استعمال کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب، سی سی پی کی ڈیٹا اینالیسس اور تحقیقات میں مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس سے سرکاری خریداری کے عمل کی نگرانی میں بہتری آئے گی۔
یادداشت کے تحت دونوں ادارے استعداد کار میں اضافے، خریداری کے ڈیٹا تک رسائی، خطرے کی علامات کی نشاندہی اور مشترکہ تحقیقاتی حکمت عملیوں پر تعاون کریں گے۔ اس کے علاوہ، نیب اور سی سی پی کے درمیان معلومات کے تبادلے کا باقاعدہ نظام بھی قائم کیا جائے گا۔
ڈاکٹر کبیر صدیقی نے کہا کہ بولی میں گٹھ جوڑ نہ صرف مارکیٹ کی شفافیت کو مجروح کرتا ہے بلکہ عوامی فنڈز کے بے دریغ ضیاع کا باعث بنتا ہے۔ اس کا حل ادارہ جاتی اشتراک سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں سی سی پی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے خلاف بولی میں گٹھ جوڑ کا ایک بڑا کیس بے نقاب کیا ہے، جس میں نیب جیسے ادارے کی مداخلت ضروری تھی۔
دونوں چیئرمینز نے اس ایم او یو کو پاکستان میں مسابقت، شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے کی سمت اہم پیشرفت قرار دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.