حکومت آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کو دی گئی 45 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ کا جائزہ لے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) امکان ہے کہ 30 جون 2024 کے بعد سابق فاٹا اور پاٹا کو سیلز ٹیکس میں دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کرے۔
فنانس ایکٹ 2024 کے تحت سابق فاٹا/پاٹا کے لیے (درآمدات، اشیاء کی فراہمی اور بجلی کی فراہمی پر) سیلز ٹیکس کی چھوٹ 30 جون 2025 تک برقرار رکھی گئی تھی۔
تاہم درآمدات پر چھوٹ صرف اس صورت میں دستیاب ہوگی جب درآمد کنندہ پوسٹ ڈیٹڈ چیک کے بجائے پے آرڈر جمع کرائے، جو متعلقہ کمشنر کی جانب سے جاری کردہ کھپت یا تنصیب کے سرٹیفکیٹ کی فراہمی (چھ ماہ کے اندر) پر واپس کیا جائے گا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے حالیہ اجلاس میں کاروباری برادری کی اس تجویز کی توثیق کی گئی کہ سابق قبائلی علاقوں کو دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ میں 30 جون 2025 کے بعد توسیع نہ کی جائے۔
یہ سیلز ٹیکس چھوٹ 30 جون 2025 کو ختم ہو جائے گی۔
کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ اسٹیل، گھی/کوکنگ آئل جیسے رسمی شعبوں کو اس چھوٹ کے باعث نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلے سے بخوبی آگاہ ہیں، اس بارے میں فیصلہ لے چکے ہیں اور ہم اس پر سفارشات پیش کریں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.