وفاقی بجٹ 26-2025 میں جائیداد کے خریداروں اور فروخت کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کیپیٹل گینز ٹیکس (سی جی ٹی) اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں رد و بدل کیا جائے گا، جو یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔
بزنس ریکارڈر کو ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ بجٹ میں خام مال اور دیگر درآمدی اشیاء پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی جائے گی۔ اسی طرح وہ تمام مالی لین دین جن پر آمدنی حاصل نہیں ہوتی (جیسے ڈیوڈنڈ وغیرہ) ان کے علاوہ دیگر تمام ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق ذرائع نے تصدیق کی کہ بجٹ 26-2025 میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر دی جائے گی۔ دوسرا اہم اقدام یہ ہوگا کہ غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر لاگو ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو بھی کم کیا جائے گا۔ فی الوقت سیکشن 236 سی کے تحت جائیداد فروخت کرنے والوں پر 3 فیصد ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
کیپیٹل گینز ٹیکس (سی جی ٹی) کی شرح میں بھی یکم جولائی 2025 سے رد و بدل کیا جائے گا تاکہ مہنگائی اور جائیداد کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں اس کو حقیقت پسندانہ بنایا جا سکے۔ سیکشن 37 کے تحت یہ ٹیکس صرف فروخت کنندہ پر لاگو ہوتا ہے، جو اسے اپنی آمدنی کی سالانہ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت ادا کرتا ہے۔
رابطہ کرنے پر رئیل اسٹیٹ ماہر محمد احسن ملک نے بتایا کہ ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی کے لیے قائم ٹاسک فورس نے سفارش کی ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 7ای، اسلام آباد میں کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور جائیداد کی خرید و فروخت پر لاگو مختلف ٹیکسز کو ختم یا کم کیا جائے۔
ٹاسک فورس کی سفارشات میں شامل نکات درج ذیل ہیں:
- سیکشن 236سی کی سب سیکشن 2اے (جو سیکشن 7 ای سے متعلق کمشنر کی منظوری کو لازمی بناتی ہے) کو ختم کیا جائے۔
- 1 کروڑ روپے تک کی جائیداد پر بنیادی ٹیکس چھوٹ دی جائے۔
- نان ریزیڈنٹ افراد کی تصدیق نادرا کے آن لائن نظام سے کی جائے۔
- فائلرز اور لیٹ فائلرز کے لیے یکساں ٹیکس شرح مقرر کی جائے۔
- سیکشن 7ای کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
- ڈاکومنٹیشن (اسٹامپ ٹیکس) کی شرحوں کو تمام صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں یکساں بنایا جائے۔
- اسلام آباد میں سی وی ٹی کو ختم کیا جائے۔
- نیشنل ٹیکس کونسل کے ذریعے ٹیکس پالیسیوں میں ہم آہنگی لائی جائے۔
- 5 کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری پر ویلتھ ری کنسیلیئشن کی شرط ختم کی جائے۔
محمد احسن ملک نے مزید کہا کہ ٹاسک فورس نے سفارش کی ہے کہ جائیداد کی قیمتوں کا تخمینہ ہر تین سال بعد مارکیٹ کے مطابق اپڈیٹ کیا جائے اور کم لاگت ہاؤسنگ، حکومتی پلاٹس، اور پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لیے ٹرانزیکشن ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.