حماس 5 سالہ جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی ایک ساتھ رہائی پر آمادہ
- حماس کا موقف برقرار: جنگ بندی معاہدے کے لیے جنگ کا خاتمہ، غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا اور انسانی امداد میں اضافہ ضروری قرار
حماس کے ایک عہدیدار نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ حماس غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کے لیے تیار ہے جس کے تحت تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا اور پانچ سال کے لیے جنگ بندی کی جائے گی۔
حماس کا ایک وفد مصر ی ثالثوں کے ساتھ 18 ماہ سے جاری تنازع کے حل کے لیے قاہرہ میں موجود تھا جبکہ دوسری جانب امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ شہر میں ایک گھر پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 10 افراد شہید اور مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
حماس کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی تنظیم ’قیدیوں کے تبادلے اور 5 سال کے لیے جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔‘
جنگ بندی کی تازہ ترین کوشش اسرائیل کی اس تجویز کے بعد کی گئی ہے جسے حماس نے رواں ماہ کے اوائل میں ’جزوی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور اس کے بجائے جنگ روکنے کے لیے ’جامع‘ معاہدے کا مطالبہ کیا تھا۔
اسرائیلی پیشکش میں 10 یرغمالیوں کی واپسی کے بدلے 45 دن کی جنگ بندی بھی شامل تھی۔
حماس مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں جنگ کا خاتمہ، غزہ کی پٹی سے اسرائیل کا مکمل انخلا اور محصور علاقے میں انسانی امداد میں اضافہ ہونا چاہیے جہاں جمعے کو اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ خوراک کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل 2023 کے حملے میں پکڑے گئے تمام یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کی تخفیف اسلحہ کا مطالبہ کرتا ہے جسے حماس نے ’ریڈ لائن‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
غزہ میں دو ماہ سے جاری جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی تازہ کارروائی کے ایک ماہ بعد حماس کے ایک عہدیدار نے رواں ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ قاہرہ میں ان کا وفد جنگ بندی کے بارے میں ’نئی راہیں تلاش کرنے‘ پر تبادلہ خیال کرے گا۔
’گھر منہدم ہو گیا‘
غزہ شہر میں شہری دفاع کے ادارے کا کہنا ہے کہ الخور خاندان کے گھر پر ہونے والے حملے میں 10 افراد شہید اورتقریباً 20 افراد ملبے تلے دبے گئے ہیں۔
حملے میں زندہ بچ جانے والی ام ولید الخور نے کہا کہ حملے کے وقت والدین اپنے بچوں کے ساتھ سو رہے تھے۔
انھوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’گھر ہمارے اوپر آگرا۔
’’جو لوگ بچ گئے وہ مدد کے لیے پکاررہے تھے لیکن کوئی نہیں آیا… شہید ہونے والوں میں زیادہ تر بچے تھے۔
شہری دفاع کے عہدیدار محمد المغیر نے بتایا کہ شہر کے دیگر علاقوں میں الشاتی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر اسرائیلی گولہ باری میں تین افراد شہید ہو گئے۔
غزہ کی پٹی میں مزید حملوں میں چار افراد شہید ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
قطر، امریکہ اور مصر نے 19 جنوری کو شروع ہونے والی جنگ بندی کی ثالثی کی تھی جس کے نتیجے میں اسرائیل کے زیر حراست یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے ساتھ ساتھ امداد میں اضافہ ہوا تھا۔
لیکن جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی شرائط پر اختلافات کی وجہ سے یہ ناکام ہوگئی۔
مذاکرات میں تعطل کے دوران امداد روکنے کے بعد اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کی جس کے بعد زمینی حملہ کیا گیا۔
خوراک اور طبی سامان کی کمی
اس کے بعد سے حماس کے زیر انتظام علاقے میں وزارت صحت کے مطابق کم از کم 2،111 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جس کے بعد غزہ میں جنگ میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 51،495 ہو گئی ہے۔
حماس کے جنگجوؤں نے 251 افراد کو اغوا بھی کیا جن میں سے 58 اب بھی غزہ میں قید ہیں جن میں سے 34 اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نئی فوجی مہم کا مقصد حماس کو بقیہ قیدیوں کو رہا کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی میں گرم کھانے کے باورچی خانوں میں خوراک کا آخری ذخیرہ پہنچا دیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ”آنے والے دنوں میں ان باورچی خانوں میں کھانا مکمل طور پر ختم ہونے کی توقع ہے“۔
ڈبلیو ایف پی کے انتباہ کے بعد عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ غزہ میں طبی سامان بھی ختم ہو رہا ہے جبکہ ڈبلیو ایچ او کے 16 ٹرک داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے ایکس پر کہا ہے کہ امداد کی یہ ناکہ بندی ختم ہونی چاہیے۔ زندگی اس پر منحصر ہے۔
امدادی اداروں اور غیر ملکی حکومتوں کے انتباہ کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں بھوک کی کمی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ امداد روکنے کا مقصد حماس پر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔























Comments
Comments are closed.