فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ای-انوائسنگ اور سیلز ٹرانزیکشنز کے انضمام سے متعلق نئے قواعد کا دائرہ تمام اقسام کے ٹیکس دہندگان (کارپوریٹ اور نان-کارپوریٹ) تک بڑھا دیا ہے۔
چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرم مور شیخہ مفتی کے پارٹنر عدنان مفتی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایف بی آر نے 22 اپریل 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن ایس آر او 709(I)/2025 کے تحت نئے قواعد جاری کیے ہیں۔ یہ قواعد سیلز ٹیکس رولز 2006 کے قاعدہ 150Q(2) کے تحت جاری کیے گئے ہیں، جن کے تحت کارپوریٹ اور نان-کارپوریٹ دونوں سیکٹرز کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے اپنے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو منسلک کرنا ہوگا تاکہ ای-انوائسز کی تیاری اور ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔
تاہم، اس اقدام سے کاروباری برادری میں الجھن پیدا ہو گئی ہے کہ آیا یہ اسکیم صرف ایف ایم سی جی سیکٹرز کے لیے ہے یا تمام ٹیکس دہندگان پر لاگو ہوتی ہے۔
عدنان مفتی نے مزید وضاحت کی کہ ابتدا میں ایف بی آر نے 10 نومبر 2023 کو ایس آر او 1525 کے ذریعے قاعدہ 150Q متعارف کروایا تھا۔ اس کے بعد 10 جنوری 2024 کو ایس آر او 28 جاری کیا گیا، جس کے مطابق انضمام کی شرط صرف ایف ایم سی جی سیکٹر تک محدود تھی اور اس پر عملدرآمد 1 فروری 2024 سے شروع ہونا تھا۔
تاہم 29 جنوری 2025 کو جاری کردہ ایس آر او 69 کے ذریعے قاعدہ 150Q کا نیا اور جامع متن متعارف کروایا گیا۔ حالیہ ایس آر او 709 اسی نئے قاعدہ کے تحت جاری کیا گیا ہے اور اس میں دو بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں: ٹیکس دہندگان کی نئی کیٹیگریز جن پر یہ قواعد لاگو ہوں گے، اور ان کے اطلاق کی تاریخیں، یعنی مئی 2025 اور جون 2025۔
عدنان مفتی کے مطابق، چونکہ سابقہ قاعدہ 150Q کو منسوخ کر کے نیا متن نافذ کیا گیا ہے، اس لیے اس کے تحت جاری کردہ ایس آر او 28 بھی اب غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ یا تو ایس آر او 28 کو باضابطہ طور پر واپس لے یا اس حوالے سے وضاحت جاری کرے، تاکہ معاملہ عدالت میں نہ جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ ایف بی آر نے کارپوریٹ سیکٹر کو بغیر کسی مشاورت کے صرف ایک ہفتے کی مہلت دی، جو کہ غیر حقیقی ہے۔ مزید یہ کہ تاحال وہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈرز بھی جاری نہیں کیے گئے جو اسکیم پر مکمل عملدرآمد کے لیے ضروری ہیں۔
مفتی نے مؤثر عملدرآمد کے لیے آئی سی اے پی، پی بی سی، ایف پی سی سی آئی اور کی ٹی بی اے سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس اسکیم سے متعلق تمام تکنیکی اور قانونی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.