وزیرزراعت و لائیواسٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے اعلان کیا ہے کہ کسان کارڈ کا دوسرا مرحلہ 15 مئی سے شروع ہوگا جس کے تحت کاشتکاروں کو خریف سیزن کے لئے بلا سود زرعی قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
کسان کارڈ منصوبے کے تحت خریف فصلوں کے لیے بلاسود قرضوں کے لیے 75 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس مرحلے کے دوران کسانوں 25 فیصد رقم سے ڈیزل خرید سکیں گے اور قرض کا 30 فیصد حصہ نقدی کی صورت میں فراہم کیا جائے گا۔ وزیر زراعت نے مزید بتایا کہ وہ کسان جن کے پاس 8 سے 10 ایکڑ زمین ہوگی، انہیں دوسرے مرحلے میں بلاسود قرضوں کے لیے اہل ہونے کی تجویز دی گئی ہے اور یہ تجویز وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس حتمی منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔ علاوہ ازیں، کسانوں کو کسان کارڈ کے تحت پچھلے قرضوں کی بروقت ادائیگی پر ایک مالی معاونت پیکیج فراہم کیا جائے گا جس کی مالیت 5 ہزار روپے فی ایکڑ ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ ایک اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں زرعی شعبے کی ترقی کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت اسامہ خان لغاری اور سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی ساہو بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب گرین ٹریکٹر پروگرام کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 9ہزار 250 گرین ٹریکٹرز فراہم کئے جاچکے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں کسانوں کو 10 ہزار سے 20 ہزار مقامی طور پر تیار کردہ ٹریکٹر (60 سے 85 ہارس پاور) رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے جسے وزیراعلیٰ حتمی منظوری کے لیے بھی ارسال کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور سرگودھا میں ماڈل ایگری کلچر مالز کی تعمیر کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔دوسرے مرحلے میں مزید 10 ماڈل ایگری کلچر مالز کی تعمیر کے لیے بھی ایک تجویز زیر غور ہے۔زرعی گریجویٹس انٹرنشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے میں 2,000 اضافی زرعی گریجویٹس کی بھرتی کی تجویز ہے۔ ان گریجویٹس کو پنجاب کے محکمہ زراعت کے تمام ذیلی محکموں میں تعینات کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے اسموگ کنٹرول پروگرام کے تحت سپر سیڈرز کی فراہمی کا پہلا مرحلہ 100 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ رواں سال ستمبر تک، چاول کی فصل کی کٹائی سے پہلے 5ہزار سپر سیڈرز کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔ صوبے بھر کے کسان سپر سیڈرز کے لیے درخواستیں دے سکیں گے۔
























Comments
Comments are closed.