BR100 Increased By (0.75%)
BR30 Increased By (0.55%)
KSE100 Increased By (0.68%)
KSE30 Increased By (0.7%)
BAFL 57.50 Increased By ▲ 0.30 (0.52%)
BIPL 27.15 Increased By ▲ 0.26 (0.97%)
BOP 34.23 Increased By ▲ 0.54 (1.6%)
CNERGY 10.79 Increased By ▲ 0.18 (1.7%)
DFML 18.12 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
DGKC 209.62 Decreased By ▼ -0.28 (-0.13%)
FABL 101.04 Increased By ▲ 2.09 (2.11%)
FCCL 54.75 Increased By ▲ 1.01 (1.88%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 25.17 Increased By ▲ 1.35 (5.67%)
HBL 304.00 Increased By ▲ 1.58 (0.52%)
HUBC 220.24 Increased By ▲ 1.30 (0.59%)
HUMNL 10.53 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 29.75 Increased By ▲ 0.10 (0.34%)
MLCF 95.75 Decreased By ▼ -0.61 (-0.63%)
OGDC 318.29 Increased By ▲ 0.07 (0.02%)
PAEL 42.91 Increased By ▲ 1.14 (2.73%)
PIBTL 16.86 Increased By ▲ 0.05 (0.3%)
PIOC 298.99 Increased By ▲ 2.37 (0.8%)
PPL 221.44 Increased By ▲ 1.27 (0.58%)
PRL 51.60 Increased By ▲ 2.55 (5.2%)
SNGP 106.74 Increased By ▲ 0.61 (0.57%)
SSGC 28.55 Decreased By ▼ -0.59 (-2.02%)
TELE 8.87 Increased By ▲ 0.05 (0.57%)
TPLP 12.94 Increased By ▲ 0.43 (3.44%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.22 (-0.37%)
UNITY 10.66 Increased By ▲ 0.64 (6.39%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
اداریہ

ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ

شائع اپ ڈیٹ

جولائی تا دسمبر 2024 کے دوران ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 32.89 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر ترسیلات زر 17.845 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 13.845 ارب ڈالر اور جولائی تا دسمبر 2023 میں 14.435 ارب ڈالر تھیں۔

جولائی تا دسمبر 2024 میں ترسیلات زر میں اضافہ 2021 کے اسی عرصے میں ہونے والے 24.9 فیصد اضافے سے بھی زیادہ رہا۔ اس کا موازنہ 2022 سے کرنا درست نہیں، کیونکہ اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کی ناقص پالیسی کے باعث ترسیلات زر میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں زرمبادلہ ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم ہو گئے تھے، جس کے باعث متعدد ایکسچینج ریٹ وجود میں آئے اور ترسیلات زر غیر رسمی چینلز جیسے ہنڈی/حوالہ کی طرف منتقل ہوگئیں۔

ترسیلات زر میں جولائی تا دسمبر 2023 ء کے دوران اضافہ ہوا کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے 9 ماہ کے اسٹینڈ بائی معاہدے کے بعد ڈار پالیسی ترک کردی گئی تھی۔

اگر مالی سال 2024-25 کے پہلے چھ ماہ کی ترسیلات زر کو سال کے اختتام تک اسی رفتار سے برقرار رکھا جائے تو کل ترسیلات تقریباً 35.69 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے جو مالی سال 2021-22 کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 4.45 ارب ڈالر زائد ہوں گی۔

یہ درست ہے کہ حکومت نے نہ صرف اسحاق ڈار کی پالیسیوں کو ترک کیا بلکہ سرکاری ذرائع سے ترسیلات زر کی مزید حوصلہ افزائی کی لیکن ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے جولائی 2024 کے ورکنگ پیپر جس کا عنوان تھا پاکستان میں ترسیلات زر کے محرکات کو سمجھنا ہے، میں کہا گیا ہے: ہم نے اقتصادی سرگرمی، ملکی سود کی شرح اور ملکی افراط زر کو ترسیلات زر کی نمو پر نمایاں اثر ڈالنے والے عوامل کے طور پر شناخت کیا ہے۔ مزید برآں، ہم نے یہ بھی پایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میکرو اکنامک عوامل وقت کے ساتھ تبدیل ہوئی ہے— خاص طور پر عالمی مالیاتی بحران (2007-08) اور کووڈ-19 وبا کے دوران اس میں تبدیلی آئی ہے۔

مزید برآں ہم نے پایا کہ ترسیلات زر بنیادی طور پر ایسے ساختی عوامل سے متاثر ہوتی ہیں جو ہمارے ماڈل میں شامل اقتصادی متغیرات سے ہٹ کر ہیں۔ اس کے علاوہ، مائیکرو اقتصادی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ تارکین وطن کی ترسیلات بھیجنے کی وجوہات ترسیلات زر کے تسلسل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آج حکومت کا یہ دعویٰ کہ جنوری 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کم ہو کر 2.4 فیصد تک آ گیا ہے، اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ نجی شعبے میں اجرتیں 2020 کی پہلی سہ ماہی میں کووڈ-19 کے آغاز سے جمود کا شکار ہیں۔( نجی شعبہ ملک کی کل افرادی قوت کا 93 فیصد ہے، جب کہ باقی 7 فیصد سرکاری ملازمین ہیں، جنہیں ہر سال مہنگائی کی شرح سے زیادہ تنخواہ میں اضافہ دیا جاتا ہے)۔ اس دوران بے روزگاری 10 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جو اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ پاکستانیوں کی بیرون ملک نقل مکانی کا سلسلہ، اپنی جانوں کی قیمت پر، کیوں نہیں رک رہا۔شرح سود 12 فیصد تک کم ہو گئی ہے، تاہم بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ، جو رسمی شعبے میں ترقی اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے، اب بھی بحران کا شکار ہے۔ نومبر 2024 میں اس کی شرح نمو منفی 3.81 فیصد رہی، جو نومبر 2023 میں منفی 0.71 فیصد تھی۔

آخر میں، معاشی ترقی کی شرح بھی جمود کا شکار ہے، جبکہ حکومت نے روایتی انداز میں رواں سال کے لیے 3.5 فیصد ترقی کی امید باندھی ہے۔ تاہم، آزاد معاشی ماہرین اس تخمینے کو 1 سے 0.8 فیصد تک کم کر رہے ہیں۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے مطالعے میں تسلیم کیا گیا کہ ”ترسیلاتِ زر ماضی میں ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں، لہٰذا بدلتے ہوئے عالمی معاشی حالات میں ان کے ممکنہ رجحانات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔“

ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی توجہ سرکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر بڑھانے اور غیر قانونی حوالہ/ہنڈی نظام کے خلاف سخت اقدامات پر مرکوز نظر آتی ہے، لیکن غیر قانونی طور پر بیرون ملک روزگار تلاش کرنے والے پاکستانی مزدوروں کی ملک بدری، ناقص سفری حالات کے باعث اموات، اور ساتھ ہی ملک میں نئی ملازمتوں کے مواقع کی عدم دستیابی کے سبب تیزی سے بڑھتے ہوئے برین ڈرین پر بھی سنجیدہ تشویش ہونی چاہیے۔

لہٰذا یہ ضروری ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اصلاحات نافذ کرے اور عارضی طور پر اپنے موجودہ اخراجات میں کمی کرے تاکہ بین الاقوامی اداروں سے فائدہ حاصل کیا جاسکے، جس سے پالیسی سازوں کو غریبوں کے حق میں پالیسیاں مرتب کرنے کی آزادی مل سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.