BR100 Increased By (0.71%)
BR30 Increased By (0.99%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.46%)
BAFL 58.75 Increased By ▲ 0.31 (0.53%)
BIPL 25.51 Increased By ▲ 0.31 (1.23%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 8.13 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 194.71 Increased By ▲ 1.74 (0.9%)
FABL 89.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 53.51 Increased By ▲ 0.68 (1.29%)
FFL 18.09 Increased By ▲ 0.14 (0.78%)
GGL 19.32 Increased By ▲ 0.35 (1.85%)
HBL 286.14 Increased By ▲ 0.64 (0.22%)
HUBC 214.98 Increased By ▲ 0.60 (0.28%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 87.40 Increased By ▲ 0.89 (1.03%)
OGDC 322.56 Increased By ▲ 2.60 (0.81%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.05 Increased By ▲ 0.38 (2.28%)
PIOC 270.50 Increased By ▲ 4.44 (1.67%)
PPL 230.00 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
PRL 34.86 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
SNGP 99.25 Increased By ▲ 0.07 (0.07%)
SSGC 26.82 Increased By ▲ 0.22 (0.83%)
TELE 8.63 Increased By ▲ 0.35 (4.23%)
TPLP 8.66 Increased By ▲ 0.44 (5.35%)
TRG 69.85 Increased By ▲ 0.14 (0.2%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
اداریہ

کچھ تبدیل نہیں ہوا

شائع February 14, 2025 اپ ڈیٹ February 14, 2025 02:57pm

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) میں پاکستان کی تنزلی ملک میں گورننس کی حالت پر ایک اور سنگین الزام ہے۔

2024 کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، پاکستان دو درجے تنزلی کے بعد 180 ممالک میں سے 135ویں نمبر پر آ گیا، جبکہ اس کا اسکور 29 سے کم ہو کر 27 پر آ گیا۔

یہ محض اعدادوشمار کا ایک چھوٹا سا جھٹکا نہیں ہے بلکہ اس بات کا عکاس ہے کہ کس طرح بدعنوانی پاکستان کے اداروں کو کھوکھلا کر چکی ہے، معیشت کو کمزور کر رہی ہے اور طرزِ حکمرانی پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کر رہی ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ مسلسل آنے والی حکومتوں کی تمام تر بیان بازی کے باوجود بدعنوانی کے خلاف جدوجہد زیادہ تر نمائشی ثابت ہوئی ہے جب کہ مفاد پرست عناصر بدستور قومی مفادات کی قیمت پر فائدہ اٹھا رہے ہیں، لہٰذا کم از کم بڑھتی ہوئی بدعنوانی کے حوالے سے کچھ بھی نہیں بدلا۔

پاکستان کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) میں تنزلی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ دہائی کے دوران جمود اور زوال کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔ ملک 2018 میں سی پی آئی کا 33 کا اسکور حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا ، لیکن اس کے بعد سے ، اسے لگاتار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہےجس سے کی گئی معمولی پیش رفت بھی ضائع ہوگئی۔

یہ شدید گراوٹ ان اداروں کی ناکامی کو اجاگر کرتی ہے جو شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں۔اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کا گورننس ماڈل بنیادی طور پر اصلاحات کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، قطع نظر اس کے کہ اقتدار میں کون ہے۔

کرپشن پرسیپشن انڈیکس ممالک کی درجہ بندی سرکاری شعبے میں بدعنوانی کے اندازے کی بنیاد پر کرتا ہے، جس میں ماہرین اور کاروباری شخصیات کی آراء شامل ہوتی ہیں۔ بدعنوانی ہر جگہ موجود ہوتی ہے، لیکن فعال ریاستوں اور مشکلات کا شکار ممالک میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ان کے ادارے بدعنوانی کو کس حد تک قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف کی جانے والی کوششیں اکثر منتخب، سیاسی محرکات پر مبنی اور بالآخر نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ منظم بدعنوانی سے نمٹنے کے لئے اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے ، ایک کے بعد ایک آنے والی حکومتوں نے اپنے اتحادیوں کو تحفظ دیتے ہوئے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے احتساب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس رویے نے عوام میں بدگمانی کو مزید گہرا کر دیا اور ان ہی اداروں پر اعتماد کم کر دیا ہے، جن کا مقصد شفافیت اور دیانت داری کو برقرار رکھنا تھا۔

پاکستان کی گرتی ہوئی سی پی آئی رینکنگ کے نتائج ساکھ کو پہنچنے والے نقصان سے کہیں زیادہ ہیں۔ بدعنوانی کا معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور گورننس پر براہ راست اور تباہ کن اثر پڑتا ہے۔ جب سرکاری شعبے میں بدعنوانی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے تو اس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری دونوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں معیشت کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔

سرمایہ کار ایسے مستحکم ماحول کے متلاشی ہوتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی برقرار رہے اور کاروباری لین دین شفاف ہو۔ پاکستان میں بدعنوانی پر قابو پانے میں ناکامی سرمایہ کے انخلا کو تیز کرتی ہے، کیونکہ کاروباری ادارے اور افراد اپنی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد مواقع تلاش کرتے ہیں۔

یہ زوال سماجی عدم مساوات کو بھی بڑھاتا ہے۔ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور بنیادی ڈھانچے جیسی ضروری خدمات کے لئے مختص عوامی فنڈز کا اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے، جس سے معاشرے کے سب سے کمزور طبقوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بدعنوانی اقربا پروری اور سفارشی کلچر کو فروغ دیتی ہے، جہاں سرکاری عہدے اور ٹھیکے اہلیت کے بجائے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ اس جڑ پکڑتی ہوئی جانب داری کی ثقافت سے ریاست پر اعتماد مزید کمزور ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی مایوسی بڑھتی ہے۔ یہی مایوسی بے حسی کو جنم دیتی ہے، اور بے حسی بدعنوانی کو بے لگام ہونے دیتی ہے۔

ان حقائق کے باوجود، پاکستانی حکام نے کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) میں تنزلی کو اصلاحات کے لیے سنجیدہ انتباہ کے بجائے محض ایک ناخوشگوار خبر کے طور پر لیا ہے۔ سرکاری ردعمل یا تو مکمل انکار پر مبنی ہوتا ہے، یا بین الاقوامی تعصب کا بہانہ بنایا جاتا ہے، یا پھر ایسی اصلاحات کے وعدے کیے جاتے ہیں جو عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہو پاتے۔

تاہم، یہ درجہ بندی معتبر عالمی اداروں کے وسیع تجزیوں پر مبنی ہوتی ہے اور محض غیر ملکی پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) میں بگڑتی ہوئی پوزیشن کسی وقتی مسئلے کا نہیں بلکہ گہرے انتظامی بحران کا اشارہ ہے، جسے صرف زبانی دعوؤں سے حل نہیں کیا جاسکتا۔

اگر پاکستان واقعی اس گراوٹ کو روکنے میں سنجیدہ ہے، تو اسے حقیقی ادارہ جاتی اصلاحات کا آغاز کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے، نیب جیسے احتسابی اداروں کو غیر سیاسی بنانا اور انہیں غیر جانبدارانہ طور پر کرپشن کی تحقیقات کرنے کا اختیار دینا ضروری ہے۔

احتساب بلا تفریق اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونا چاہیے۔ دوسرا، عدلیہ کی آزادی اور قانونی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ضروری ہے تاکہ کرپشن کے مقدمات محض طویل قانونی جنگوں میں الجھ کر بے نتیجہ ثابت نہ ہوں، بلکہ حقیقی سزاؤں پر منتج ہوں۔ تیسرا، پبلک پروکیورمنٹ اور گورننس میں زیادہ شفافیت سے بدعنوانی کے مواقع کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اگر پاکستان نے سنجیدہ اصلاحات نہ کیں تو سی پی آئی میں اس کی موجودہ گراوٹ مزید ادارہ جاتی زوال اور معاشی جمود کا باعث بن سکتی ہے۔

کرپشن کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں بلکہ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جو شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتی ہے اور صرف چند مخصوص افراد کو عوام کی قیمت پر فائدہ پہنچاتی ہے۔ حکام اس مسئلے کو مزید نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ عدم کارروائی کی قیمت حد سے زیادہ بھاری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.